صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
949. (716) بَابُ الْأَمْرِ بِاعْتِزَالِ الْحَائِضِ إِذَا شَهِدَتِ الْعِيدَ،
حائضہ عورت جب عید میں حاضر ہو تو عید گاہ سے الگ رہنے کا حُکم کا بیان
حدیث نمبر: Q1467
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهَا إِنَّمَا أُمِرَتْ بِالْخُرُوجِ لِمُشَاهَدَةِ الْخَيْرِ وَدَعْوَةِ الْمُسْلِمِينَ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ اُسے صرف خیر و بھلائی کے مشاہدے اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کے لئے نکلنے کا حُکم دیا گیا ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ، الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَمَا يُحْتَاجُ فِيهِمَا مِنَ السُّنَنِ/حدیث: Q1467]
حدیث نمبر: 1467
نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، وَهِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، وَحَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخْرِجُ الأَبْكَارَ، الْعَوَاتِقَ، ذَوَاتَ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لإِحْدَانَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ:" فَلْتُعِرْهَا أُخْتُهَا مِنْ جَلابِيبِهَا"
سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری نوجوان پردہ نشین لڑکیوں اور حائضہ عورتوں کو عید والے دن (عید گاہ کی طرف) نکالا کرتے تھے۔ البتہ حائضہ عورتیں عید گاہ سے الگ رہتی تھیں اور خیر و بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتی تھیں۔ اُن میں سے کسی عورت نے پوچھا، اگر ہم میں سے کسی ایک کے پاس چادر نہ ہو تو (وہ کیا کرے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُس کی بہن اپنی چادروں میں سے ایک چادراُسے عاریتاً دے دے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ، الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَمَا يُحْتَاجُ فِيهِمَا مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1467]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 324، 351، 971، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 890، وابن الجارود فى "المنتقى"، 115، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1466، 1467، 1722، 1723، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2816، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1418، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 388، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1136، والترمذي فى (جامعه) برقم: 539، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1307، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5719، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21121»