🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1086. (135) بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَرْكِ الصَّلَاةِ جَمَاعَةً نَافِلَةً بَعْدَ الصَّلَاةِ مُنْفَرِدًا فَرِيضَةً
تنہا فرض نماز پڑھ لینے کے بعد جماعت کے ساتھ بطور نفل نماز نہ پڑھنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1639
نا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيَتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟" فَقَالَ لَهُ:" صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِذَا أَدْرَكْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَلا تَقُلْ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ، فَلا أُصَلِّي" . لَمْ يَقُلْ بُنْدَارٌ:" صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا"
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا کیا حال ہو گا جب تم ایسے لوگوں کے درمیان ہوگے جو نماز کو اُس کے وقت سے مؤخر کرکے ادا کریں گے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں فرمایا: ”تم نماز وقت پر پڑھ لینا - پھر تم اُنہیں اس حال میں پاؤ کہ اُنہوں نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو تم اُن کے ساتھ بھی، نماز پڑھ لو اور یہ نہ کہو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا میں (ان کے ساتھ نماز) نہیں پڑھتا۔“ جناب بندار نے یہ الفاظ بیان نہیں کئے کہ ”تم نماز کو اُس کے وقت پر ادا کرنا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ قِيَامِ الْمَأْمُومِينَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ/حدیث: 1639]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 648، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1637، 1639، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1482، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 777، وأبو داود فى (سننه) برقم: 431، والترمذي فى (جامعه) برقم: 176، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1256، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3695، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21701»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں