🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

روزے کی فرضیت کی ابتداء میں روزے دار کے رات کو سو جانے کے بعد کھانا پینا اور جماع کرنا ممنوع تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کرکے انپے مؤمن بندوں پر فضل و کرم، ان سے درگزر اور تخفیف و آسانی کرتے ہوئے یہ تمام کام طلوع فجر تک جائز قرار دے دیئے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا، فَحَضَرَ الإِفْطَارَ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ، وَلا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ: لا. وَلَكِنْ أَطْلُبُ، فَطَلَبَتْ لَهُ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، وَجَاءَتِ امْرَأَتُهُ، قَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ. فَأَصْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187 فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا. فَقَالَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187"
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں کوئی شخص جب روزے دار ہوتا پھر افطاری کا وقت آجاتا اور وہ افطاری سے پہلے سو جاتا تو وہ اس رات اور اگلے دن شام تک کچھ نہ کھاتا اور سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ روزے دار تھے پھر جب افطاری کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور پو چھا کہ کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ نہیں، لیکن میں تلاش کرکے لاتی ہوں تو وہ اُن کے لئے کھانا لینے چلی گئیں اور سیدنا قیس رضی اللہ عنہ سارا دن کام کرتے رہے تھے، لہٰذا اُنہیں نیند آگئی۔ اُن کی زوجہ محترمہ (کھانا لیکر) آئی۔ (اُنہیں سو یا ہوا دیکھ کر) کہنے لگیں کہ افسوس تم محروم ہوگئے۔ پھر اسی حالت میں اُنہوں نے صبح کی۔ پھر جب دوپہر کا وقت ہوا تو وہ بیہوش ہوگئے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی «‏‏‏‏أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ» ‏‏‏‏ [ سورة البقرة: 187 ] تمہارے لئے روزوں کی رات میں بیویوں سے ہمبستری کرنا حلال کردیا گیا ہے۔ اس سے صحابہ کو بہت زیادہ خوش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مزید قرآن نازل فرمایا «‏‏‏‏وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ» ‏‏‏‏ [ سورة البقرة: 187 ] کھاؤ اور پیو حتّیٰ کہ تمہارے لئے صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے ـ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1915، 4508، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1904، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3460، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2167، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2314، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2968، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1735، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7995، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18910، 18911»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں