صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جب رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیئے بغیر رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے
حدیث نمبر: 1911
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُقَدِّمُوا هَذَا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوَا الْهِلالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ"
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مہینے (رمضان) سے آگے نہ پڑھو حتُیٰ کہ تم چاند دیکھ لو یا (شعبان کی) گنتی مکمّل کرلو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1911، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3458، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2125، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2447، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2326، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8047، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2166»
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ الْبَزَّارُ ، نا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ، وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ. فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: وَاللَّهِ لَتَدْنُوَنَّ. قُلْتُ: فَحَدِّثْنِي. قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالا، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ"
جناب سماک بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عکرمہ کے پاس اُس دن آیا جس دن رمضان کے شروع ہو جانے کے بارے میں شک کیا جا رہا ہے، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے۔ تو اُنہوں نے کہا کہ قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ۔ تو میں نے عرض کی کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم، تم ضرور قریب ہوگے (اور کھاؤ گے) میں نے کہا کہ تو مجھے (اس بارے میں) بیان فرمائیں۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (روزہ رکھ کر) رمضان کا استقبال مت کرو۔ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو ـ پھر ایک چاند دیکھنے اور تمہارے درمیان بادل یا دھند و غبار حائل ہو جائے تو (شعبان کی) گنتی تیس دن پوری کرلو ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1003، وابن الجارود فى "المنتقى"، 412، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3590، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1552، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2123 وأبو داود فى (سننه) برقم: 2327، والترمذي فى (جامعه) برقم: 688، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8043، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1956»