صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس روایت کا بیان جس سے بعض علماء کو وہم ہوا ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا، سفر میں روزہ رکھنے کے جواز کا ناسخ ہے
حدیث نمبر: 2035
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ" . وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ فَالآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ , وَزَادَ: قَالَ سُفْيَانُ: لا أَدْرِي هَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَوْ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکّہ والے سال (سفر کے دوران) روزے رکھے حتّیٰ کہ جب آپ الکدید مقام پر پہنچے تو روزہ کھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری اور مؤخر فرمان پر عمل کیا جائے گا۔ یہ جناب عبدالجبار کی روایت ہے۔ اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ امام سفیان فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں (یہ آخری جملہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے یا عبید اللہ یا امام زہری کا قول ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2035]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1944، 1948، 2953، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1113، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1031، وابن الجارود فى "المنتقى"، 437، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2035، 2036، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3555، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4383، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2404، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1661، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8238، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1917»