🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب صِحَّةِ الاِحْتِجَاجِ بِالْحَدِيثِ الْمُعَنْعَنِ إِذَا أَمْكَنَ لِقَاءُ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ مُدَلِّسٌ
باب: معنعن حدیث سے حجت پکڑنا صحیح ہے جبکہ معنعن والوں کی ملاقات ممکن ہو اور ان میں کوئی تدلیس کرنے والا نہ ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B5
وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ مُنْتَحِلِي الْحَدِيثِ مِنْ أَهْلِ عَصْرِنَا فِي تَصْحِيحِ الأَسَانِيدِ، وَتَسْقِيمِهَا، بِقَوْلٍ: لَوْ ضَرَبْنَا عَنْ حِكَايَتِهِ، وَذِكْرِ فَسَادِهِ صَفْحًا، لَكَانَ رَأْيًا مَتِينًا، وَمَذْهَبًا صَحِيحًا، إِذْ الْإِعْرَاضُ عَنِ الْقَوْلِ الْمُطَّرَحِ أَحْرَى، لِإِمَاتَتِهِ، وَإِخْمَالِ ذِكْرِ قَائِلِهِ، وَأَجْدَرُ أَنْ لَا يَكُونَ ذَلِكَ تَنْبِيهًا لِلْجُهَّالِ عَلَيْهِ، غَيْرَ أَنَّا لَمَّا تَخَوَّفْنَا مِنْ شُرُورِ الْعَوَاقِبِ وَاغْتِرَارِ الْجَهَلَةِ، بِمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ وَإِسْرَاعِهِمْ إِلَى اعْتِقَادِ خَطَإِ الْمُخْطِئِينَ، وَالأَقْوَالِ السَّاقِطَةِ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ رَأَيْنَا الْكَشْفَ عَنْ فَسَادِ قَوْلِهِ، وَرَدَّ مَقَالَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَلِيقُ بِهَا مِنَ الرَّدِّ، أَجْدَى عَلَى الأَنَامِ، وَأَحْمَدَ لِلْعَاقِبَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ،
امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں بعض ایسے لوگوں نے، جنہوں نے جھوٹ موٹ اپنے تئیں محدث قرار دیا ہے، اسناد کی صحت اور سقم میں ایک قول بیان کیا ہے۔ اگر ہم بالکل اس کو نقل نہ کریں اور اس کا ابطال نہ لکھیں تو عمدہ تجویز ہوگی اور ٹھیک راستہ ہوگا، اس لیے کہ غلط بات کی طرف التفات نہ کرنا اسے مٹانے کے لیے اور اس کے کہنے والے کا نام کھودنے کے لیے بہتر اور جاہلوں کے لیے مناسب ہے تاکہ ان کو اس غلط بات کی خبر بھی نہ ہو؛ مگر اس وجہ سے کہ ہم انجام کی برائی سے ڈرتے ہیں اور یہ بات دیکھتے ہیں کہ جاہل نئی بات پر فریفتہ ہو جاتے ہیں اور غلط بات پر جلد اعتقاد کر لیتے ہیں جو علما کے نزدیک ساقط الاعتبار ہوتی ہے، ہم نے اس قول کی غلطی بیان کرنا اور اس کو رد کرنا، اس کا فساد و بطلان اور خرابیاں ذکر کرنا لوگوں کے لیے بہتر اور فائدہ مند خیال کیا، اور اس کا انجام بھی نیک ہوگا اگر اللہ «عَزَّ وَ جَلَّ» عزت اور بزرگی والا چاہے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B5]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B6
وَزَعَمَ الْقَائِلُ الَّذِي افْتَتَحْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْحِكَايَةِ، عَنْ قَوْلِهِ وَالإِخْبَارِ عَنْ سُوءِ رَوِيَّتِهِ، أَنَّ كُلَّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ فِيهِ فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ، وَقَدْ أَحَاطَ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدْ كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ وَجَائِزٌ، أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَى الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ، قَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ وَشَافَهَهُ بِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَعْلَمُ لَهُ مِنْهُ سَمَاعًا، وَلَمْ نَجِدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ، أَنَّهُمَا الْتَقَيَا قَطُّ أَوْ تَشَافَهَا بِحَدِيثٍ، أَنَّ الْحُجَّةَ لَا تَقُومُ عِنْدَهُ بِكُلِّ خَبَرٍ جَاءَ هَذَا الْمَجِيءَ، حَتَّى يَكُونَ عِنْدَهُ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدِ اجْتَمَعَا مِنْ دَهْرِهِمَا مَرَّةً، فَصَاعِدًا، أَوْ تَشَافَهَا بِالْحَدِيثِ بَيْنَهُمَا، أَوْ يَرِدَ خَبَرٌ فِيهِ بَيَانُ اجْتِمَاعِهِمَا وَتَلَاقِيهِمَا مَرَّةً مِنْ دَهْرِهِمَا فَمَا فَوْقَهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ عِلْمُ ذَلِكَ، وَلَمْ تَأْتِ رِوَايَةٌ صَحِيحَةٌ تُخْبِرُ، أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ، عَنْ صَاحِبِهِ، قَدْ لَقِيَهُ مَرَّةً، وَسَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ فِي نَقْلِهِ الْخَبَرَ، عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ عِلْمُ ذَلِكَ، وَالأَمْرُ كَمَا وَصَفْنَا حُجَّةٌ، وَكَانَ الْخَبَرُ عِنْدَهُ مَوْقُوفًا، حَتَّى يَرِدَ عَلَيْهِ سَمَاعُهُ مِنْهُ لِشَيْءٍ مِنَ الْحَدِيثِ قَلَّ أَوْ كَثُرَ فِي رِوَايَةٍ مِثْلِ مَا وَرَدَ
اور اس شخص نے، جس کے قول سے ہم نے گفتگو شروع کی اور جس کے فکر اور خیال کو ہم نے باطل کہا، یوں گمان کیا ہے کہ جو اسناد ایسی ہو جس میں «فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ» ہو اور یہ بات معلوم ہو گئی کہ وہ دونوں ایک ہی زمانے میں تھے اور ممکن ہو کہ یہ حدیث ایک نے دوسرے سے سنی ہو اور وہ اس سے ملا بھی ہو، مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس نے اس سے سنا ہے، نہ ہم نے کسی روایت میں اس بات کی تصریح پائی کہ وہ دونوں ملے تھے اور ان میں (منہ در منہ) بات چیت ہوئی تھی، تو ایسی اسناد سے جو حدیث روایت کی جائے وہ حجت نہیں ہے جب تک یہ بات معلوم نہ ہو کہ کم از کم وہ دونوں اپنی عمر میں ایک بار ملے تھے اور ایک نے دوسرے سے بات چیت کی تھی یا ایسی کوئی حدیث روایت کی جائے جس میں اس امر کا بیان ہو کہ ان دونوں کی ملاقات ایک یا زیادہ بار ہوئی تھی۔ اگر اس بات کا علم نہ ہو اور نہ کوئی حدیث ایسی روایت کی جائے جس سے ملاقات اور سماع کا ثبوت ہو، تو ایسی حدیث نقل کرنا جس سے ملاقات کا علم نہ ہو ایسی حالت میں حجت نہیں ہے اور وہ حدیث موقوف رہے گی، یہاں تک کہ ان دونوں کا سماع، تھوڑا یا بہت، کسی دوسری روایت سے معلوم ہو جائے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B6]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B7
وَهَذَا الْقَوْلُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فِي الطَّعْنِ فِي الأَسَانِيدِ قَوْلٌ مُخْتَرَعٌ، مُسْتَحْدَثٌ، غَيْرُ مَسْبُوقٍ صَاحِبُهُ إِلَيْهِ، وَلَا مُسَاعِدَ لَهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْقَوْلَ الشَّائِعَ الْمُتَّفَقَ عَلَيْهِ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ، بِالأَخْبَارِ، وَالرِّوَايَاتِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا، أَنَّ كُلَّ رَجُلٍ ثِقَةٍ، رَوَى عَنْ مِثْلِهِ حَدِيثًا وَجَائِزٌ، مُمْكِنٌ لَهُ لِقَاؤُهُ وَالسَّمَاعُ مِنْهُ، لِكَوْنِهِمَا جَمِيعًا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فِي خَبَرٍ قَطُّ، أَنَّهُمَا اجْتَمَعَا وَلَا تَشَافَهَا بِكَلَامٍ، فَالرِّوَايَةُ ثَابِتَةٌ وَالْحُجَّةُ بِهَا لَازِمَةٌ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ هُنَاكَ دَلَالَةٌ بَيِّنَةٌ، أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ لَمْ يَلْقَ مَنْ رَوَى عَنْهُ، أَوْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا، فَأَمَّا وَالأَمْرُ مُبْهَمٌ عَلَى الإِمْكَانِ الَّذِي فَسَّرْنَا، فَالرِّوَايَةُ عَلَى السَّمَاعِ أَبَدًا، حَتَّى تَكُونَ الدَّلَالَةُ الَّتِي بَيَّنَّا،
اور اسناد کے باب میں یہ قول، «رَحِمَكَ اللّٰهُ» اللہ تجھ پر رحم کرے، ایک نیا ایجاد کیا ہوا ہے جو پہلے کسی نے نہیں کہا اور نہ ہی حدیث کے عالموں نے اس کی موافقت کی ہے؛ اس لیے کہ وہ مشہور مذہب جس پر اہل علم کے اگلوں اور پچھلوں کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی ثقہ شخص کسی ثقہ شخص سے ایک حدیث روایت کرے اور ان دونوں کی ملاقات جائز اور ممکن ہو (باعتبارِ سن اور عمر کے) اس وجہ سے کہ وہ دونوں ایک ہی زمانے میں موجود تھے، اگرچہ کسی حدیث میں اس بات کی تصریح نہ ہو کہ وہ دونوں ملے تھے یا ان میں روبرو بات چیت ہوئی تھی، تو وہ حدیث حجت ہے اور وہ روایت ثابت ہے۔ البتہ اگر اس امر کی وہاں کوئی کھلی دلیل ہو کہ درحقیقت یہ راوی دوسرے راوی سے نہیں ملا یا اس سے کچھ نہیں سنا، تو وہ حدیث حجت نہ ہوگی؛ لیکن جب تک یہ امر مبہم رہے (یعنی گول مول اور کوئی دلیل نہ سننے اور نہ ملنے کی نہ ہو) تو صرف ملاقات کا ممکن ہونا کافی ہوگا اور وہ روایت سماع پر محمول کی جائے گی۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B7]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B8
فَيُقَالُ لِمُخْتَرِعِ هَذَا الْقَوْلِ، الَّذِي وَصَفْنَا مَقَالَتَهُ، أَوْ لِلذَّابِّ عَنْهُ، قَدْ أَعْطَيْتَ فِي جُمْلَةِ قَوْلِكَ، أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ الثِّقَةِ عَنِ الْوَاحِدِ، الثِّقَةِ حُجَّةٌ يَلْزَمُ بِهِ الْعَمَلُ، ثُمَّ أَدْخَلْتَ فِيهِ الشَّرْطَ بَعْدُ، فَقُلْتَ: حَتَّى نَعْلَمَ أَنَّهُمَا قَدْ كَانَا الْتَقَيَا مَرَّةً فَصَاعِدًا أَوْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا، فَهَلْ تَجِدُ هَذَا الشَّرْطَ الَّذِي اشْتَرَطْتَهُ عَنْ أَحَدٍ يَلْزَمُ قَوْلُهُ وَإِلَّا فَهَلُمَّ دَلِيلًا عَلَى مَا زَعَمْتَ،
پھر جس شخص نے یہ قول نکالا ہے یا وہ اس کی حمایت کرتا ہے اس سے یوں گفتگو کریں گے کہ خود تیرے ہی سارے کلام سے یہ بات نکلی کہ ایک ثقہ شخص کی روایت دوسرے ثقہ شخص سے حجت ہے جس پر عمل کرنا واجب ہے۔ پھر تو نے خود ایک شرط بعد میں بڑھا دی کہ جب یہ بات معلوم ہو جائے کہ وہ دونوں اپنی عمر میں ایک بار ملے تھے یا اس سے زیادہ اور ایک نے دوسرے سے سنا تھا۔ اب اس شرط کا ثبوت کسی ایسے شخص کے قول سے پانا ہے جس کا ماننا ضروری ہو۔ اگر ایسا قول نہیں ہے تو پھر اپنے دعوے پر کوئی اور دلیل لانا۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B8]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B9
فَإِنِ ادَّعَى قَوْلَ أَحَدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ، بِمَا زَعَمَ مِنْ إِدْخَالِ الشَّرِيطَةِ فِي تَثْبِيتِ الْخَبَرِ طُولِبَ بِهِ، وَلَنْ يَجِدَ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ إِلَى إِيجَادِهِ سَبِيلًا، وَإِنْ هُوَ ادَّعَى فِيمَا زَعَمَ دَلِيلًا يَحْتَجُّ بِهِ، قِيلَ لَهُ: وَمَا ذَاكَ الدَّلِيلُ؟
اگر وہ یہ کہے کہ اس باب میں سلف کا قول ہے، یعنی اس شرط کے ثبوت کے لیے، تو کہا جائے گا: کہاں ہے؟ «لَا» نہیں، پھر نہ اس کو کوئی قول ملے گا اور نہ کسی اور کو، اور اگر وہ اور کوئی دلیل قائم کرنا چاہے تو پوچھیں گے: وہ دلیل کیا ہے؟ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B9]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B10
فَإِنْ، قَالَ: قُلْتُهُ لِأَنِّي وَجَدْتُ رُوَاةَ الأَخْبَارِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا، يَرْوِي أَحَدُهُمْ عَنِ الآخَرِ الْحَدِيثَ، وَلَمَّا يُعَايِنْهُ، وَلَا سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا قَطُّ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمُ اسْتَجَازُوا رِوَايَةَ الْحَدِيثِ بَيْنَهُمْ هَكَذَا عَلَى الإِرْسَالِ مِنْ غَيْرِ سَمَاعٍ، وَالْمُرْسَلُ مِنَ الرِّوَايَاتِ فِي أَصْلِ قَوْلِنَا، وَقَوْلِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالأخْبَارِ لَيْسَ بِحُجَّةٍ احْتَجْتُ، لِمَا وَصَفْتُ مِنَ الْعِلَّةِ إِلَى الْبَحْثِ عَنْ سَمَاعِ رَاوِي كُلِّ خَبَرٍ، عَنْ رَاوِيهِ، فَإِذَا أَنَا، هَجَمْتُ عَلَى سَمَاعِهِ مِنْهُ لِأَدْنَى شَيْءٍ ثَبَتَ عَنْهُ عِنْدِي بِذَلِكَ جَمِيعُ مَا يَرْوِي عَنْهُ بَعْدُ، فَإِنْ عَزَبَ عَنِّي مَعْرِفَةُ ذَلِك أَوْقَفْتُ الْخَبَرَ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي مَوْضِعَ حُجَّةٍ لِإِمْكَانِ الإِرْسَالِ فِيهِ،
پھر اگر وہ شخص یہ کہے: میں نے یہ مذہب اس لیے اختیار کیا ہے کہ میں نے حدیث کے تمام اگلے اور پچھلے راویوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے سے حدیث روایت کرتے ہیں حالانکہ اس ایک نے دوسرے کو دیکھا ہے نہ اس سے سنا، تو جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے جائز رکھا ہے مرسل کو روایت کرنا بغیر سماع کے اور مرسل روایت ہمارے اور علم والوں کے نزدیک حجت نہیں ہے، تو احتیاج پڑی مجھ کو راوی کے سماع دیکھنے کی جس کو وہ دوسرے سے روایت کرتا ہے۔ پھر اگر مجھے کہیں ذرا بھی ثابت ہو گیا کہ اس نے سنا ہے دوسرے راوی سے تو اس کی تمام روایتیں اس سے درست ہو گئیں، اگر بالکل مجھے معلوم نہ ہوا کہ اس نے اس سے سنا ہے تو میں روایت کو موقوف رکھوں گا اور میرے نزدیک وہ روایت حجت نہ ہوگی اس لیے کہ اس کا مرسل ہونا ممکن ہے (دلیل ہوئی مخالف کی۔ اب اس کا جواب آگے مذکور ہوتا ہے)۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B10]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B11
فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنْ كَانَتِ الْعِلَّةُ فِي تَضْعِيفِكَ الْخَبَرَ وَتَرْكِكَ الِاحْتِجَاجَ بِهِ، إِمْكَانَ الْإِرْسَالِ فِيهِ، لَزِمَكَ أَنْ لَا تُثْبِتَ إِسْنَادًا مُعَنْعَنًا، حَتَّى تَرَى فِيهِ السَّمَاعَ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ. وَذَلِكَ أَنَّ الْحَدِيثَ الْوَارِدَ عَلَيْنَا بِإِسْنَادِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة َ، فَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ، أَنَّ هِشَامًا قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ، وَأَنَّ أَبَاهُ قَدْ سَمِعَ مِنْ عائشة كَمَا نَعْلَمُ، أَنَّ عائشة قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ يَجُوزُ إِذَا لَمْ يَقُلْ هِشَامٌ فِي رِوَايَةٍ يَرْوِيهَا، عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ، أَوْ أَخْبَرَنِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِيهِ فِي تِلْكَ الرِّوَايَةِ إِنْسَانٌ آخَرُ أَخْبَرَهُ بِهَا، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْهَا هُوَ مِنْ أَبِيهِ، لَمَّا أَحَبَّ أَنْ يَرْوِيَهَا مُرْسَلًا وَلَا يُسْنِدَهَا إِلَى مَنْ سَمِعَهَا مِنْهُ، وَكَمَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ أَيْضًا مُمْكِنٌ فِي أَبِيهِ، عَنْ عائشة، وَكَذَلِكَ كُلُّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ سَمَاعِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنْ كَانَ قَدْ عُرِفَ فِي الْجُمْلَةِ، أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ قَدْ سَمِعَ مِنْ صَاحِبِهِ سَمَاعًا كَثِيرًا، فَجَائِزٌ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَنْ يَنْزِلَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ، فَيَسْمَعَ مِنْ غَيْرِهِ عَنْهُ بَعْضَ أَحَادِيثِهِ، ثُمَّ يُرْسِلَهُ عَنْهُ أَحْيَانًا، وَلَا يُسَمِّيَ مَنْ سَمِعَ مِنْهُ، وَيَنْشَطَ أَحْيَانًا، فَيُسَمِّيَ الرَّجُلَ الَّذِي حَمَلَ عَنْهُ الْحَدِيثَ وَيَتْرُكَ الإِرْسَالَ،
تو اس سے کہا جائے گا کہ اگر تیرے نزدیک حدیث کو ضعیف قرار دینے کی اور اس کو حجت نہ سمجھنے کی علت صرف ارسال کا ممکن ہونا ہے (جیسے اس نے خود کہا کہ جب سماع ثابت نہ ہو تو وہ روایت حجت نہ ہو گی کیونکہ ممکن ہے اس کا مرسل ہونا) تو لازم آتا ہے کہ تو کسی اسنادِ معنعن کو نہ مانے جب تک اول سے لے کر آخر تک اس میں سماع کی تصریح نہ ہو (یعنی ہر راوی دوسرے سے یوں روایت کرے کہ میں نے اس سے سنا)، مثلاً جو حدیث ہم کو پہنچی ہشام کی روایت سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے، جیسے ہم اس بات کو بالیقین جانتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، باوجود اس کے احتمال ہے کہ اگر کسی روایت میں ہشام یوں نہ کہیں کہ میں نے عروہ سے سنا ہے یا عروہ نے مجھے خبر دی (بلکہ صرف «عَنْ عُرْوَةَ» کہیں) تو ہشام اور عروہ کے بیچ میں ایک اور شخص ہو جس نے عروہ سے سن کر ہشام کو خبر دی ہو اور خود ہشام نے اپنے باپ سے اس روایت کو نہ سنا ہو، لیکن ہشام نے اس کو مرسلاً روایت کرنا چاہا اور جس کے ذریعے سے سنا اس کا ذکر مناسب نہ جانا۔ اور جیسے یہ احتمال ہشام اور عروہ کے بیچ میں ہے، ویسے ہی عروہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیچ میں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہر اس اسناد میں جس میں سماع کی تصریح نہیں، اگرچہ یہ بات معلوم ہو جائے کہ ایک نے دوسرے سے بہت سی روایتیں سنی ہیں، مگر یہ ہو سکتا ہے کہ بعض روایتیں اس سے نہ سنی ہوں بلکہ کسی اور کے ذریعے سے سن کر اس کو مرسلاً نقل کیا ہو، پر جس کے ذریعے سے سنا اس کا نام نہ لیا اور کبھی اس ابہام کو رفع کرنے کے لیے اس کا نام بھی لے دیا اور ارسال کو ترک کیا۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B11]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B12
وَمَا قُلْنَا: مِنْ هَذَا مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ، مُسْتَفِيضٌ مِنْ فِعْلِ ثِقَاتِ الْمُحَدِّثِينَ، وَأَئِمَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ؟ وَسَنَذْكُرُ مِنْ رِوَايَاتِهِمْ عَلَى الْجِهَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا، عَدَدًا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى أَكْثَرَ مِنْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، فَمِنْ ذَلِكَ.أَنَّ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ وَابْنَ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعًا وَابْنَ نُمَيْرٍ وَجَمَاعَةً غَيْرَهُمْ رَوَوْا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِحِلِّهِ وَلِحِرْمِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِد، فَرَوَى هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِعَيْنِهَا، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَدَاوُدُ الْعَطَّارُ وَحُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ احتمال جو ہم نے بیان کیا (صرف فرضی اور خیالی نہیں ہے) بلکہ موجود ہے حدیث میں اور جاری ہے بہت سے ثقہ محدثین کی روایتوں میں۔ ہم تھوڑی سی ایسی روایتیں بیان کرتے ہیں، اللہ چاہے تو ان سے دلیل پوری ہوگی بہت سی روایتوں پر۔ پہلی روایت وہ ہے جو ایوب سختیانی رحمہ اللہ اور ابن مبارک رحمہ اللہ اور وکیع رحمہ اللہ اور ابن نمیر رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے سوائے ان کے ہشام سے نقل کی، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ میں خوشبو لگاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کھولتے وقت اور احرام باندھتے وقت جو سب سے عمدہ مجھ کو ملتی۔ اسی روایت کو بعینہ لیث بن سعد رحمہ اللہ اور داؤد عطار رحمہ اللہ اور حمید بن الاسود رحمہ اللہ اور وہیب بن خالد رحمہ اللہ اور ابو اسامہ رحمہ اللہ نے ہشام سے روایت کیا۔ ہشام نے کہا: خبر دی مجھ کو عثمان بن عروہ نے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B12]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B13
وَرَوَى هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اعْتَكَفَ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ، فَأُرَجِّلُهُ، وَأَنَا حَائِضٌ، فَرَوَاهَا بِعَيْنِهَا مَالِكُ بْن أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
دوسری روایت ہشام کی ہے، اپنے باپ عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میری طرف جھکا دیتے، میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔ اسی روایت کو بعینہٖ امام مالک رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B13]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B14
وَرَوَى الزُّهْرِيُّ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي الْقُبْلَةِ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ"،
تیسری روایت وہ ہے جو زہری رحمہ اللہ اور صالح بن ابی حسان رحمہ اللہ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے نقل کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ دار ہوتے تھے۔ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے اس بوسے کی حدیث کو یوں روایت کیا: مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عروہ رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ دار ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/مُقَدِّمَةٌ/حدیث: 92B14]
ترقیم فوادعبدالباقی:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں