🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1629. ‏(‏74‏)‏ بَابُ ذِكْرِالْبَيَانِ أَنّ عَلٰی أَوْلِيَاءِ الْأَطفَالِ مِنْ اٰلِ النَّبِیِّ صلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَنْعُھُمْ مِنْ أَكْلِ مَا حُرِّمَ عَلَی اَلْبَالِغِیْنَ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچّوں کے اولیاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ انہیں اس مال کو کھانے سے منع کریں جوان کے بالغ مرد خواتین پر حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ أَنَّهُ أَدْخَلَنِي مَعَهُ غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً، فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ، فَقَالَ:" أَلْقِهَا، فَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ"
جناب ابن شیبان بیان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ آپ مجھے اُس کمرے میں لیکرداخل ہوئے جس میں زکوٰۃ کا مال رکھا ہوا تھا تو میں نے ایک کھجور لیکر مُنہ میں ڈال لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نکال دو کیونکہ یہ مالِ زکوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر کے کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ قَسْمِ الْصَّدَقَاتِ وَذِكْرِ أَهْلِ سُهْمَانِهَا/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 300، 301، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1095، 1096، 2347، 2348، 2349، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 722، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2180، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1744، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1425، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1740»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں