صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1839. (98) بَابُ إِبَاحَةِ الزِّيَادَةِ فِي التَّلْبِيَةِ
تلبیہ میں ”ذاالمعارج“ جیسے الفاظ کا اضافہ کرنا درست ہے
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2625
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ" ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: بِالإِهْلالِ وَالتَّلْبِيَةِ
جناب خلاد بن سائب اپنے والد گرامی سیدنا سائب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت جبرائیل عليه السلام تشریف لائے تو اُنہوں نے کہا کہ ”اپنے صحابہ کو حُکم دیجیئے کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کریں۔“ جناب احمد کی روایت میں ”بِالْاِهْلَاِل وَالتَّلْبِيَةِ“ کے الفاظ ہیں۔ (معنی دونوں کا ایک ہی ہے کہ تلبیہ پکاریں)۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 2626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ" ، قَالَ: وَأَمَّا النَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ لا يَقُولُ شَيْئًا
جناب جعفر اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ (سفر حج) کے لئے نکلے حتّیٰ کہ آپ کی سواری آپ کو لیکر بیداء مقام پر سیدھی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے یہ کلمات توحید پکارے «لَبَّيْكَ اللَٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، میں تیری عبادت پر قائم ہوں۔ میری تیری فرمانبرداری کے لئے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ، میں تیری خدمت میں حاضر ہوں، بیشک تمام حمد و ثناء تیری ہی شان کے لائق ہے۔ اور سب نعمتیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں۔ بادشاہی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ جب کہ صحابہ کرام ”ذالمعارج“ (اے سیڑھیوں والے) کے الفاظ بڑھا دیتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ سننے کے باوجود انہیں کچھ نہیں کہتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح