🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1843. (102) بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضَعِ الْإِصْبَعَيْنِ فِي الْأُذُنَيْنِ عِنْدَ رَفَعِ الصَّوْتِ وَالتَّلْبِيَةِ، إِذْ وَضْعُ الْإِصْبَعَيْنِ فِي الْأُذُنَيْنِ عِنْدَ رَفَعِ الصَّوْتِ يَكُونُ أَرْفَعَ صَوْتًا، وَأَمَدَّهُ
آواز بلند کرنے اور تلبیہ پکارتے وقت انگلیاں کانوں میں ڈالنا مستحب ہے کیونکہ کانوں میں انگلیاں ڈالنے سے آواز بلند اور لمبی ہوجاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2632
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَتَيْنَا وَادِيَ الأَزْرَقِ، قَالَ: " أَيُّ وَادٍ هَذَا؟" قُلْنَا: وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ:" كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى"، فَنَعَتَ مِنْ طُولِهِ، وَشَعْرِهِ، وَلَوْنِهِ وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جَوَازٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي، ثُمَّ نَظَرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا، قَالَ دَاوُدُ: أَظُنُّهُ ثَنِيَّةَ مُوسَى، فَقَالَ:" أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟" فَقُلْنَا: ثَنِيَّةُ مُوسَى، قَالَ: كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، خِطَامُ النَّاقَةِ خَلِيَّةٌ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ مِنْ صُوفٍ بِهَذِهِ الثَّنِيَّةِ مُلَبِّيًا"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منوّرہ کی طرف چلے۔ پھر جب ہم وادی ازرق میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سی وادی ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ میں حضرت موسیٰ عليه السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ عليه السلام کے طویل قد و قامت، ان کے بالوں اور رنگ کی صفت بیان کی، حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال کر بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ پھر ہم چلتے رہے حتّیٰ کہ ہم ثنیہ ہرشی کے پاس آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کونسی گھاٹی ہے؟ ہم نے عرض کیا یہ ہرشی گھاٹی ہے۔ آپ نے فرمایا: گویا کہ میں حضرت یونس عليه السلام کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ سرخ رنگ کی اونٹنی پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی ہے۔ حضرت یونس عليه السلام نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ تلبیہ پکارتے ہوئے اس گھاٹی سے گزر رہے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2632]
تخریج الحدیث: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2633
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي عَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ: " أَيُّ وَادٍ هَذَا؟" فَقَالُوا: وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى"، فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ، وَشَعَرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جَوَازٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ، قَالَ:" أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟" فَقَالُوا: هُوَ شَيْءٌ أَوْ كَذَا، فَقَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ، خِطَامُ نَاقَتِهِ خَلِيَّةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکّہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ کے درمیان سفر کیا۔ ہم ایک وادی سے گزرے تو آپ نے فرمایا: یہ کونسی وادی ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ میں حضرت موسیٰ عليه السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے ان کے بالوں اور رنگت کے بارے میں کچھ بتایا، داؤد راوی کو وہ یاد نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ عليه السلام اپنی اُنگلیاں اپنے کانوں میں ڈال کر بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پھر ہم چلتے رہے حتّیٰ کہ ہم ایک گھاٹی پر آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کونسی گھاٹی ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ هَرْشٰي يَالَفَتَ گھاٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ میں حضرت یونس عليه السلام کو دیکھ رہا ہوں وہ سرخ اونٹنی پر سوار ہیں۔ اور اونی جبہ پہنے ہوئے ہیں۔ ان کی روشنی کی مہار کھجور کی چھال کی رسّی ہے، وہ تلبیہ پڑھتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كِتَابُ: الْمَنَاسِكِ/حدیث: 2633]
تخریج الحدیث: انظر الحديث السابق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں