صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1863. (122) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا احْتَجَمَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ وَجَعٍ وَجَدَهُ بِرَأْسِهِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک میں کسی تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی
حدیث نمبر: 2658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الصَّائِمِ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَرَى إِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ إِلا لِجَهْدِهِ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ، وَقَالَ:" قَدِ احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَمِنْ وَجَعٍ وَجَدَهُ فِي رَأْسِهِ"
جناب حمید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا روزے دار سینگی لگوا سکتا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہم روزے دار کی تکلیف اور کمزوری کی وجہ سے سینگی لگوانا ناپسند کرتے تھے۔ لیکن انہوں نے یہ بات مرفوع بیان نہیں کی۔ اور انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک میں ایک تکلیف کی بنا پر حالت احرام میں سینگی لگوائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2658]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1940، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2658، 2659، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3952، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1671، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2849، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1837، 2375، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8363، 19587، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12879»