🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2011. ‏(‏270‏)‏ بَابُ إِبَاحَةِ الْفَصْلِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا بِفِعْلٍ لَيْسَ مِنْ عَمَلِ الصَّلَاةِ‏.‏
جب نماز مغرب اور عشاء کو جمع کرکے ادا کیا جائے تو ان دونوں کے درمیان نماز کے علاوہ کوئی حاجت و ضرورت پوری کرکے وقفہ کرنا جائز ہے
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2851
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ: إِهْرَاقَ الْمَاءِ، قَالَ أُسَامَةُ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، قُلْتُ: الصَّلاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " الصَّلاةُ أَمَامَكَ"، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ وَضَعَ رَحْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ ، قَالَ سُفْيَانُ: انْتَهَى حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ إِلَى قَوْلِهِ، الصَّلاةُ أَمَامَكَ، وَالزِّيَادَةُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس روانہ ہوئے اور آپ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ پھر جب آپ گھاٹی کے پاس پہنچے آپ سواری سے اُترے اور پیشاب کیا۔ اور یہ الفاظ نہیں کہے کہ آپ نے پانی بہایا۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک برتن سے آپ کے لئے پانی اُنڈیلا تو آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، نماز کا ارادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر ادا کریںگے۔ پھر آپ مزدلفہ آئے تو مغرب کی نماز ادا کی، پھر آپ نے اپنی سواری سے کجاوہ وغیرہ اُتار کر اُسے کھول دیا، پھر عشاء کی نماز ادا کی۔ امام سفیان کہتے ہیں کہ ابراہیم کی روایت ان الفاظ پر ختم ہوگئی کہ نماز آگے جاکر ادا کریںگے۔ باقی اضافہ جناب ابن ابی حرملہ کی روایت کا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2851]
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں