صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2048. (307) بَابُ اسْتِحْبَابِ إِهْدَاءِ مَا قَدْ غُنِمَ مِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الشِّرْكِ وَالْأَوْثَانِ أَهْلَ الْحَرْبِ مِنْهُ مُغَايَظَةً لَهُمْ.
اہل حرب مشرکین اور بت پرستوں سے حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے جانور قربانی کے لئے مکّہ مکرّمہ بھیجنا مستحب ہے تاکہ اس سے مشرکین کو غصّہ اور رنج دلایا جائے
حدیث نمبر: 2898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، نا سَلَمَةُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَاهُ جَمَلا لأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ لِيَغِيظَ الْمُشْرِكِينَ بِذَلِكَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ والے سال ابوجہل سے حاصل ہونے والا اونٹ بھی قربانی کے اونٹوں کے ساتھ روانہ کیا، اُس کی ناک میں چاندی کا چھلّہ بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اونٹ مشرکین کو جلانے اور غم دلانے کے لئے بھیجا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2898]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2897، 2898، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1721، 4407، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1749، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3076، 3100، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10003، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2109»