صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب جَوَازِ غَسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالاِتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ:
باب: حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور حائضہ کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں ٹیک لگانے اور اس کی گود میں قرآن پڑھنے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 302 ترقیم شاملہ: -- 694
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ الْيَهُودَ، كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ، لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ، إِلَّا النِّكَاحَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ، فَقَالُوا: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ، أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا، إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ، تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، فَلَا نُجَامِعُهُنَّ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا، فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا، فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی، جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تو نہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر ہی میں اکٹھے رہتے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ سے اس بارے میں پوچھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی: ”یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجیے، یہ اذیت (کا وقت) ہے، اس لیے محیض (مقام حیض) میں عورتوں (کے ساتھ مجامعت) سے دور ہو“ آخر تک۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماع کے سوا سب کچھ کرو۔“ یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو کہنے لگے: یہ آدمی ہمارے دین کی ہر بات کی مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے۔ (یہ سن کر) اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہود اس اس طرح کہتے ہیں تو کیا ہم ان (عورتوں) سے جماع بھی نہ کر لیا کریں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ دونوں سے ناراض ہو گئے ہیں۔ وہ دونوں نکل گئے، آگے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا ہدیہ آ رہا تھا، آپ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیجا اور ان کو (بلوا کر) دودھ پلایا، وہ سمجھ گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 694]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تو وہ نہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ ان کے ساتھ ان کے گھروں میں اکٹھے رہتے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] ”اور (لوگ) آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ بتا دیجیے یہ اذیت (کا زمانہ ہے)، اس لیے محیض (زمانہ حیض) میں عورتوں سے (جماع کرنے سے) دور رہو۔“ آخر تک، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماع کے سوا (ہر چیز) سب کچھ کرو۔“ یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو وہ کہنے لگے: ”یہ شخص ہر بات میں ہماری مخالفت کرنا چاہتا ہے۔“ (یہ سن کر) حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہود ایسا کہتے ہیں، تو کیا ہم ان سے جماع بھی نہ کریں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر ناراض ہو گئے ہیں، تو وہ دونوں نکل گئے، آگے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا تحفہ آ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے ایلچی بھیجا (اور ان کو بلوا کر) دونوں کو دودھ پلایا، تو وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 694]
ترقیم فوادعبدالباقی: 302
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة