اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
912. باب قوله تعالى إِن الحسنات يذهبن السيئات
باب: ’’فرمان الٰہی نیکیوں سے برائیاں ختم ہو جاتی ہیں‘‘
حدیث نمبر: 1758
1758 صحيح حديث ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلاً أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ (أَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَي النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحِسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ) فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلِي هذَا قَالَ: لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک شخص نے کسی غیر عورت کا بوسہ لے لیا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حرکت کی خبر دے دی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [سورة هود: 114] ”اور نماز دن کے دونوں حصوں میں قائم کرو اور کچھ رات گئے بھی، اور بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔“ اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا یہ صرف میرے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میری تمام امت کے لیے یہی حکم ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 4 باب الصلاة كفارة»
حدیث نمبر: 1759
1759 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ قَالَ: وَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاَةَ، قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ قَالَ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ: نعمْ قَالَ: فَإِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ (أَوْ قَالَ) حَدَّكَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک صاحب کعب بن عمرو آئے اور کہا، یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ مجھ پر حد جاری کیجیے۔ بیان کیا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کچھ نہیں پوچھا یہاں تک کہ نماز کا وقت ہو گیا اور ان صاحب نے بھی آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو پھر وہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا، یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے، آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجیے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے؟“ انہوں نے کہا، ہاں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا۔“ یا فرمایا کہ ”تیری غلطی یا حد (معاف کر دی)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب التوبة/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 86 كتاب الحدود: 27 باب إذا أقر بالحد ولم يبين هل للإمام أن يستر عليه»