المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
9. الوضوء من مس الذكر
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 16
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: تَذَاكَرَ أَبِي وَعُرْوَةُ مَا يُتَوَضَأُ مِنْهُ، فَذَكَرَ عُرْوَةُ وَذَكَرَ حَتَّى ذَكَرَ الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، قَالَ أَبِي: لَمْ أَسْمَعْ بِهِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ ، عَنْ بُسْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" ، قُلْنَا: أَرْسِلْ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ حَرَسِيًّا أَوْ رَجُلا، فَجَاءَ الرَّسُولُ بِذَلِكَ.
عبد اللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ) اور عروۃ رحمہ اللہ نواقض وضو کا ذکر کرنے لگے، تذکرہ کرتے کرتے عروۃ رحمہ اللہ نے شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹنے کا ذکر بھی کیا، میرے والد کہنے لگے: میں نے تو یہ نہیں سنا، عروۃ رحمہ اللہ کہنے لگے: مروان نے مجھے بسرۃ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔ ہم نے کہا: بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیجو، چنانچہ مروان نے چوکیدار یا کسی اور کو ان کے پاس بھیجا، تو قاصد وہی جواب لایا (جو عروہ رحمہ اللہ کہتے تھے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الحميدي: 352، مسند الإمام أحمد: 406/6-407، سنن النسائي: 444»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" .
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، تو وضو کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 407,406/6، سنن النسائي: 447، سنن الترمذي: 82، سنن ابن ماجه: 479، سنن الدار قطني: 146/1، شرح معاني الآثار للطحاوي: 72/1، اسے ترمذي رحمہ اللہ نے ”حسن صحيح“، ابن خزيمه رحمہ اللہ 33، اور ابن حبان رحمہ اللہ 1113، نے ”صحيح“ كها هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" ، قَالَ عُرْوَةُ: سَأَلْتُ بُسْرَةَ فَصَدَّقَتْهُ.
سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے بسر ہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 18]
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے بسر ہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: اس حديث كو امام ابن حبان رحمہ اللہ 1114 نے ”صحيح“ كها هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: ثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: ثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ: ثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسَّتْ فَرْجَهَا فَلْتَتَوَضَّأْ" .
عمرو بن شعیب اپنے باپ، دادا سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مرد اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے اور جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ بھی وضو کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 223/2، سنن الدارقطني: 147/1، مسند الشاميين للطبراني: 1831»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن