🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. باب الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ:
باب: نماز عشاء کی نماز میں قرأت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 464 ترقیم شاملہ: -- 1037
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، فَقَرَأَ: فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ".
شعبہ نے عدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے، آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی تو اس کی ایک رکعت میں «والتين والزيتون» پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1037]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی تو اس کی ایک رکعت میں «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 464
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 464 ترقیم شاملہ: -- 1038
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، فَقَرَأَ بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ ".
(شعبہ کے بجائے) یحییٰ بن سعید نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو آپ نے «والتين والزيتون» کی قراءت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1038]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» کی قرأت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 464
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 464 ترقیم شاملہ: -- 1039
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ بِ: التِّينِ وَالزَّيْتُونِ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ ".
(شعبہ اور یحییٰ کے بجائے) مسعر نے عدی بن ثابت سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عشاء کی نماز میں «والتين والزيتون» کی قراءت کرتے ہوئے سنا، میں نے کسی کو نہیں سنا جس کی آواز آپ سے زیادہ اچھی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1039]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشاء کی نماز میں «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» سنی، میں نے کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھی آواز میں پڑھتے نہیں سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 464
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 465 ترقیم شاملہ: -- 1040
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ، يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَصَلَّى لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَانْحَرَفَ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ، فَقَالُوا لَهُ: أَنَافَقْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ، وَإِنَّ مُعَاذًا، صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ بِكَذَا، وَاقْرَأْ بِكَذَا، قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: اقْرَأْ: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَقَالَ عَمْرٌو: نَحْوَ هَذَا ".
سفیان نے عمرو سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، پھر آ کر اپنے قبیلے کی (مسجد میں) امامت کراتے، ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر اپنی قوم کے پاس آئے، ان کی امامت کی اور (سورہ فاتحہ کے بعد) سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی۔ ایک شخص الگ ہو گیا (نماز سے، سلام پھیرا، پھر اکیلے نماز پڑھی اور چلا گیا) تو لوگوں نے اس سے کہا: اے فلاں! کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! نہیں، میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس معاملے سے آگاہ کروں گا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم ان اونٹوں والے ہیں جو پانی ڈھوتے ہیں، دن بھر کام کرتے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز آپ کے ساتھ پڑھی، پھر آ کر سورہ بقرہ کے ساتھ نماز شروع کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا: اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو؟ فلاں سورت پڑھا کرو اور فلاں سورت پڑھا کرو۔ سفیان نے کہا: میں نے عمرو سے کہا: ابوزبیر نے ہمیں جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: «والشمس وضحاها»، «والضحى»، «والليل إذا يغشى» اور «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھا کرو۔ اور عمرو نے کہا: اس جیسی (سورتیں پڑھا کرو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1040]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عشاء) کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر آ کر اپنے قبیلہ کی مسجد میں امامت کرواتے تھے، ایک رات انہوں نے عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کی امامت کی اور (سورة فاتحہ کے بعد) سورة البقرہ پڑھنی شروع کر دی، ایک شخص نماز سے سلام پھیر کر الگ ہو گیا، پھر اکیلا نماز پڑھ کر چلا گیا، (اس کے بلا جماعت، اکیلے نماز پڑھنے کی بنا پر) لوگوں نے اس سے پوچھا، اے فلاں! تو منافق ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا، اللہ کی قسم! نہیں، اور میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ سے آگاہ کروں گا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا کام اونٹوں کے ذریعے پانی سینچنا ہے، ہم لوگ دن بھر محنت مشقت (کام کاج) کرتے ہیں، (اور گزشتہ رات) معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی۔ پھر (اپنے قبیلہ کی مسجد میں) آ کر سورة البقرہ شروع کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ فرمایا، اور ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ یہ یہ سورة پڑھا کرو۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا، میں نے عمرو رحمہ اللہ سے پوچھا، ابو زبیر رحمہ اللہ نے ہمیں جابر رضی اللہ عنہ سے سنایا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا» «وَالضُّحَى» «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» پڑھا کرو، عمرو رحمہ اللہ نے کہا، ایسے ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 465
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 465 ترقیم شاملہ: -- 1041
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الأَنْصَارِيُّ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ، فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا، فَصَلَّى، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ مُعَاذٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ؟ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ، فَاقْرَأْ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَاقْرَأْ: بِاسْمِ رَبِّكَ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت کی۔ ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور الگ نماز پڑھ لی۔ معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: وہ منافق ہے۔ جب اس آدمی تک یہ بات پہنچی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو بتایا کہ معاذ نے کیا کہا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے معاذ! کیا تم فتنہ ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کی امامت کراؤ تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «اقرأ باسم ربك الذي خلق» اور «والليل إذا يغشى» پڑھا کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1041]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں طویل قرأت کی ہم میں سے ایک آدمی نے سلام پھیر کر الگ نماز پڑھ لی، معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا وہ منافق ہے، جب اس آدمی تک یہ بات پہنچی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، معاذ رضی اللہ عنہ کی بات بتائی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے معاذ! کیا تم ابتلاء میں ڈالنے والے بننا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کی امامت کراؤ تو «وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا» «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى» «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ» اور «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» پڑھا کرو۔ (ان آیات سے پوری سورة پڑھنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1041]
ترقیم فوادعبدالباقی: 465
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 465 ترقیم شاملہ: -- 1042
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ ".
منصور نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1042]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 465
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 465 ترقیم شاملہ: -- 1043
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كَانَ مُعَاذٌ، يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ قَوْمِهِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ ".
(منصور کے بجائے) ایوب نے عمرو بن دینار سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم کی مسجد میں آ کر ان کو نماز پڑھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1043]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم کی مسجد میں آ کر ان کو نماز پڑھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 465
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں