صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب سُجُودِ التِّلاَوَةِ:
باب: سجدہ تلاوت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 575 ترقیم شاملہ: -- 1295
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى كلهم، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَقْرَأُ سُورَةً فِيهَا سَجْدَةٌ، فَيَسْجُدُ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ بَعْضُنَا مَوْضِعًا لِمَكَانِ جَبْهَتِهِ ".
یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ آپ اس سورت کی تلاوت فرماتے جس میں سجدہ ہوتا اور سجدہ کرتے تو ہم (سب) بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کے لیے بھی جگہ نہ ملتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1295]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ والی سورت کی تلاوت فرماتے اور سجدہ کرتے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے، یہاں تک کہ (بھیڑ کی وجہ سے) ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی تھی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1295]
ترقیم فوادعبدالباقی: 575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 575 ترقیم شاملہ: -- 1296
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ، فَيَسْجُدُ بِنَا، حَتَّى ازْدَحَمْنَا عِنْدَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِيَسْجُدَ فِيهِ، فِي غَيْرِ صَلَاةٍ ".
محمد بن بشر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے ہوئے سجدے (والی آیت) سے گزرتے تو ہمارے ساتھ سجدہ کرتے، آپ کے پاس ہماری بھیڑ لگ جاتی حتیٰ کہ ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کے لیے جگہ نہ ملتی (یہ سجدہ) نماز کے علاوہ ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1296]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت کرتے، سجدہ والی آیت سے گزرتے اور ہمارے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہماری بھیڑ لگ جاتی، حتیٰ کہ نماز کے بغیر ہی ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کے لیے جگہ نہ ملتی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1296]
ترقیم فوادعبدالباقی: 575
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 576 ترقیم شاملہ: -- 1297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَسْوَدَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ قَرَأَ وَالنَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا، أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا.
حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة النجم کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب نے سجدہ کیا، مگر ایک بوڑھے (امیہ بن خلف) نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی بھر کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا: میرے لیے یہی کافی ہے۔ عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں نے بعد میں دیکھا، اسے کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1297]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سُورَةُ النَّجْمِ کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدہ کیا، صرف ایک بوڑھے نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی بھر کر اپنی پیشانی سے لگائی اور کہا: ”میرے لیے یہی کافی ہے“، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے اس کو (یعنی امیہ بن خلف) کفر کی حالت میں قتل ہوتے دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 576
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 577 ترقیم شاملہ: -- 1298
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الإِمَامِ، فَقَالَ: " لَا قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَيْءٍ، وَزَعَمَ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَلَمْ يَسْجُدْ ".
عطاء بن یسار نے (اپنے شاگرد ابن قسیط کو) بتایا کہ انہوں نے امام کے ساتھ (قرآن کی کسی سورت کی) قراءت کرنے کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا؟ انہوں نے کہا: امام کے ساتھ (فاتحہ کے سوا) کچھ نہ پڑھے اور کہا: انہوں (زید رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «والنجم اذا ہوى» پڑھی تو آپ نے سجدہ نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1298]
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے، امام کے ساتھ قرأت کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”امام کے ساتھ کچھ نہ پڑھے۔“ اور کہا، انہوں (زید رضی اللہ عنہ) نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ [سورة النجم: 1] پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1298]
ترقیم فوادعبدالباقی: 577
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1299
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، " قَرَأَ لَهُمْ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا ".
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورة «إذا السماء انشقت» پڑھی اور اس میں سجدہ کیا، پھر جب سلام پھیرا تو انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1299]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورت ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور سلام پھیرنے کے بعد انہیں بتایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1299]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1300
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1300]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1301
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ".
عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1301]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] میں سجدہ کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1302
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ".
صفوان بن سلیم نے بنو مخزوم کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن اعرج سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1302]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] میں سجدہ کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1302]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1303
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
عبیداللہ بن ابی جعفر نے عبدالرحمن اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1303]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 578 ترقیم شاملہ: -- 1304
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ، " فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا "، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ، وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى: فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُهَا.
عبیداللہ بن معاذ عنبری اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے حدیث سنائی، انہوں نے بکر (بن عبداللہ مزنی) سے اور انہوں نے ابورافع سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے «إذا السماء انشقت» کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا۔ میں نے پوچھا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اس میں ابوالقاسم (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیچھے سجدہ کیا، اس لیے میں اس میں ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جا ملوں۔ (محمد) بن عبدالاعلیٰ نے کہا: میں بھی ہمیشہ یہ سجدہ کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1304]
حضرت ابورافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، انہوں نے ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا، میں نے پوچھا: ”یہ سجدہ کیسا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں نے اس میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا ہے، اس لیے میں اس میں ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ ان سے جا ملوں (فوت ہو جاؤں)۔“ ابن عبدالاعلیٰ نے کہا: ”میں بھی ہمیشہ یہ سجدہ کرتا رہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1304]
ترقیم فوادعبدالباقی: 578
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة