🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. باب إِسْلاَمِ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ:
باب: عمرو بن عبسہ کا اسلام قبول کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 832 ترقیم شاملہ: -- 1930
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ ، ويَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ عِكْرِمَةُ : وَلَقِيَ شَدَّادٌ، أَبَا أُمَامَةَ، ووَاثِلَةَ، وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَى الشَّامِ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ : كُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ، فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا، فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَآءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ، فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنْتَ، قَالَ: " أَنَا نَبِيٌّ "، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ: " أَرْسَلَنِي اللَّهُ "، فَقُلْتُ: وَبِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: " أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ "، قُلْتُ لَهُ: فَمَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ "، قَالَ: " وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ، وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ "، فَقُلْتُ: إِنِّي مُتَّبِعُكَ، قَالَ: " إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا، أَلَا تَرَى حَالِي وَحَالَ النَّاسِ، وَلَكِنْ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ، فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ، فَأْتِنِي "، قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي أَهْلِي، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ، وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ؟ فَقَالُوا: النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ، وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: " نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَكَّةَ "، قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ، أَخْبِرْنِي، عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ: " صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ، عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ، حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ، عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ، عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوءَ حَدِّثْنِي عَنْهُ، قَالَ: " مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ، فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ، فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ". فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ: يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ، فَقَالَ عَمْرٌو: يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي، وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ وَلَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
ابوعمار شداد بن عبداللہ اور یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوامامہ سے روایت کی۔۔۔ عکرمہ نے کہا: شداد ابوامامہ اور واثلہ رضی اللہ عنہ سے مل چکا ہے، وہ شام کے سفر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا اور ان کی فضیلت اور خوبی کی تعریف کی۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جب اپنے جاہلیت کے دور میں تھا تو (یہ بات) سمجھتا تھا کہ لوگ گمراہ ہیں اور جب وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں تو کسی (سچی) چیز (دین) پر نہیں، پھر میں نے مکہ کے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ بہت سی باتوں کی خبر دیتا ہے، میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کے پاس آ گیا، اس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپے ہوئے تھے، آپ کی قوم (کے لوگ) آپ کے خلاف دلیر، اور جری تھے۔ میں ایک لطیف تدبیر اختیار کر کے مکہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا آپ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ پھر میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا: آپ کو کیا (پیغام) دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے صلہ رحمی، بتوں کو توڑنے، اللہ تعالیٰ کو ایک قرار دینے، اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے (کا پیغام) دے کر بھیجا ہے۔ میں نے آپ سے پوچھا: آپ کے ساتھ اس (دین) پر اور کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت ایمان لانے والوں میں سے ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما تھے۔ میں نے کہا: میں بھی آپ کا متبع ہوں۔ فرمایا: تم اپنے آج کل کے حالات میں ایسا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے؟ لیکن (ان حالات میں) تم اپنے گھر کی طرف لوٹ جاؤ اور جب میرے بارے میں سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو میرے پاس آ جانا۔ کہا: تو میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ گیا۔ اور (بعد ازاں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے میں اپنے گھر ہی میں تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے۔ تو میں بھی خبریں لینے اور لوگوں سے آپ کے حالات پوچھنے میں لگ گیا۔ حتیٰ کہ میرے پاس اہل یثرب (مدینہ والوں) میں سے کچھ لوگ آئے تو میں نے پوچھا: یہ شخص جو مدینہ میں آیا ہے اس نے کیا کچھ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: لوگ تیزی سے ان (کے دین) کی طرف بڑھ رہے ہیں، آپ کی قوم نے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ اس پر میں مدینہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں تم وہی ہو ناں جو مجھ سے مکہ میں ملے تھے؟ کہا: تو میں نے عرض کی: جی ہاں، اور پھر پوچھا: اے اللہ کے نبی! مجھے وہ (سب) بتایئے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اس سے ناواقف ہوں، مجھے نماز کے بارے میں بتایئے۔ آپ نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھو اور پھر نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل کر بلند ہو جائے کیونکہ وہ جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان (اپنے سینگوں کو آگے کر کے یوں دیکھتا ہے جیسے وہ اس) کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس (سورج) کو سجدہ کرتے ہیں، اس کے بعد نماز پڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ ہوتا ہے اور اس میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے ساتھ لگ جائے (سورج بالکل سر پر آ جائے) تو پھر نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کو ایندھن سے بھر کر بھڑکایا جاتا ہے، پھر جب سایہ آ جائے (سورج ڈھل جائے) تو نماز پڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور اس میں حاضری دی جاتی ہے حتیٰ کہ تم عصر سے فارغ ہو جاؤ، پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج (پوری طرح) غروب ہو جائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں میں غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ کہا: پھر میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! تو وضو؟ مجھے اس کے بارے میں بھی بتایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کے لیے پانی اپنے قریب کرتا ہے، پھر کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی کھینچ کر اسے جھاڑتا ہے تو اس سے اس کے چہرے، منہ، اور ناک کے نتھنوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اللہ کے حکم کے مطابق اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو لازماً اس کے چہرے کے گناہ بھی پانی کے ساتھ اس کی داڑھی کے کناروں سے گر جاتے ہیں، پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں (کے اوپر) تک دھوتا ہے تو لازماً اس کے ہاتھوں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے پوروں سے گر جاتے ہیں، پھر وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے زائل ہو جاتے ہیں، پھر وہ ٹخنوں (کے اوپر) تک اپنے دونوں قدم دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے پوروں سے گر جاتے ہیں، پھر اگر وہ کھڑا ہوا نماز پڑھے اور اللہ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا اور بزرگی بیان کی اور اپنا دل اللہ کے لیے (ہر قسم کے دوسرے خیالات و تصورات سے) خالی کر لیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکلتا ہے جس طرح اس وقت تھا جس دن اس کی ماں نے اسے (ہر قسم کے گناہوں سے پاک) جنا تھا۔ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ایک اور) صحابی حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھ لو، تم کیا کہہ رہے ہو۔ ایک ہی جگہ اس آدمی کو اتنا کچھ عطا کر دیا جاتا ہے! اس پر عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوامامہ! میری عمر بڑھ گئی ہے میری ہڈیاں نرم ہو گئی ہیں اور میری موت کا وقت بھی قریب آ چکا ہے اور مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں۔ اگر میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک، دو، تین۔۔۔ حتیٰ کہ انہوں نے سات بار شمار کیا۔۔۔ بار نہ سنا ہوتا تو میں اس حدیث کو کبھی بیان نہ کرتا بلکہ میں نے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے بھی زیادہ بار سنا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1930]
حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب جاہلیت میں تھا تو سمجھتا تھا کہ لوگ گمراہ ہیں اور ان کے دین کی کوئی حیثیت نہیں ہے جبکہ وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں، میں نے مکہ کے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ بہت سی باتیں بتاتا ہے، میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کے پاس پہنچ گیا، میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپے ہوئے ہیں اور آپ کی قوم کے لوگ آپ کے خلاف دلیر اور جری ہیں۔ میں ایک چارہ (بہانہ) کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کی کیا حیثیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبی ہوں۔ پھر میں نے پوچھا: نبی کی حقیقت اور صفت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ تو میں نے کہا: آپ کو کیا دے کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے صلہ رحمی کرنے، بتوں کو توڑنے، اور اللہ تعالیٰ کو ایک قرار دینے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے کا حکم دے کر بھیجا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے ساتھ کس نے اس پیغام کو قبول کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ راوی بتاتے ہیں کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں میں حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما تھے۔ میں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیرو کار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت اس کی طاقت نہیں رکھتے، کیا تم میری حالت اور لوگوں کی حالت نہیں دیکھ رہے کہ لوگ میرے ساتھ کیا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں؟ لیکن اس وقت اپنے گھر لوٹ جاؤ اور جب میرے بارے میں سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو میرے پاس آ جانا۔ تو میں اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے آئے، اور میں اپنے گھر میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حالات معلوم کرتا رہتا تھا اور لوگوں سے پوچھتا رہتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ چکے تھے، یہاں تک کہ میرے پاس اہل یثرب یعنی مدینہ کے کچھ لوگ آئے تو میں نے پوچھا: یہ مدینہ سے آنے والے آدمی کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: لوگ تیزی سے ان کی طرف مائل ہو رہے ہیں، یعنی اس کے دین کو قبول کر رہے ہیں۔ ان کی قوم نے انہیں قتل کرنا چاہا تھا لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ اس پر میں مدینہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تو وہی ہے جو مجھے مکہ میں ملا تھا۔ تو میں نے کہا: جی ہاں، اور پوچھا: اے اللہ کے نبی! مجھے بتایئے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اس سے ناواقف ہوں، مجھے نماز کے بارے میں بتایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھ اور پھر نماز سے رک جا یہاں تک کہ سورج نکل کر بلند ہو جائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس کو (سورج) سجدہ کرتے ہیں، پھر نماز پڑھ کیونکہ نماز کی گواہی دی جاتی ہے اور اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ نیزہ کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو پھر نماز سے رک جا کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، پھر جب سایہ ڈھلنا شروع ہو جائے (سورج ڈھل جائے) تو نماز پڑھو کیونکہ نماز کے لیے فرشتے گواہی دیتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں حتیٰ کہ عصر سے فارغ ہو جاؤ، پھر نماز سے باز آ جا یہاں تک کہ سورج پوری طرح غروب ہو جائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں میں غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ اس پر میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تو وضو؟ مجھے اس کے بارے میں بھی بتایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کے لیے پانی لاتا ہے اور کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی کھینچ کر اسے جھاڑتا ہے تو اس سے اس کے چہرے، منہ اور ناک کے نتھنوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے چہرے کو اللہ کے حکم کے مطابق دھوتا ہے تو اس کی داڑھی کے اطراف سے پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے گناہ گر جاتے ہیں، پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ اس کے پوروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں، پھر وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں، پھر وہ اپنے دونوں قدم ٹخنوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں کے گناہ اس کے پوروں سے پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں، پھر اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، اللہ کی حمد و ثنا اور اس کے شایانِ شان بزرگی بیان کرتا ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لیے (ہر قسم کے خیالات و تصورات سے) خالی کر لیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکلتا ہے جس طرح ماں نے اسے جنا ہوتا ہے۔ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمرو بن عبسہ! سوچو تم کیا کہہ رہے ہو۔ ایک ہی جگہ اس آدمی کو اتنا کچھ مل جاتا ہے! اس پر حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوامامہ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں، میری ہڈیاں بھی سن رحضرت ہوگئی ہیں (کمزور ہو گئی ہیں) اور میری موت کا وقت بھی قریب آ چکا ہے اور مجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اگر میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک، دو، تین، حتیٰ کہ انہوں نے سات دفعہ گنا (شمار کیا) نہ سنا ہوتا تو میں اس حدیث کو کبھی بھی بیان نہ کرتا۔ لیکن میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے بھی زیادہ دفعہ سنا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1930]
ترقیم فوادعبدالباقی: 832
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں