مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
50. في المرأة تقتل خطأ وليس لها ولي (يكفر لها)
عورت غلطی سے کسی کو قتل کر دے اور اس کا کوئی ولی بھی نہ ہو جو کفارہ ادا کرے اس کی طرف سے
ترقیم عوامۃ: 12572 ترقیم الشثری: -- 12838
١٢٨٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا داود بن ابي هند عن الشعبي قال: مرت رفقة من اهل الشام فاشتروا جارية فاعتقوها فطرحت طنا من قصب على صبي فقتلته، (فاوتي بها) (١) مسروق، فقال: التمسوا اولياءها، فلم يجدوا احدا، فنظر ساعة و (تفكر) (٢) ، وقال: قال الله: ﴿فمن لم يجد فصيام شهرين متتابعين﴾ [المجادلة: ٤] ، اذهبي فصومي شهرين متتابعين ولا شيء لهم عليك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (فأتي فيها)، وفي [ز، ب]: (فأوتي فيها)، وكذلك في [ص].
(٢) في [جـ، ز]: (نفكر)، وفي [ص]: (تكفر)، وفي [ن]: (تذكر).
حدثنا يزيد بن هارون، قال: اخبرنا داود بن ابي هند، عن الشعبي، قال: مرت رفقة من اهل الشام , فاشتروا جارية فاعتقوها , فطرحت طنا من قصب على صبي فقتلته , فاتي بها مسروق , فقال:" التمسوا اولياءها" , فلم يجدوا احدا , فنظر ساعة وتذكر , وقال: قال الله:" فمن لم يجد فصيام شهرين متتابعين سورة النساء آية 92، اذهبي فصومي شهرين متتابعين ولا شيء لهم عليك"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں اہل شام کے پاس سے ایک مرتبہ گذرا تو انہوں نے ایک باندی خرید کر اس کو آزاد کردیا، اس باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی ایک بچہ پر پھینکی جس کی وجہ سے وہ بچہ ہلاک ہوگیا، اسے حضرت مسروق کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا اس کے اولیاء کو تلاش کرو، انہوں نے کسی کو نہ پایا، آپ کچھ دیر غور وفکر فرماتے رہے پھر فرمایا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے، { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } اس کو لے جاؤ اور اس سے ساٹھ روزے رکھواؤ، اور ان کے لیے اس پر کچھ نہیں ہے (جرمانہ وغیرہ)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 12838]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12838، ترقيم محمد عوامة 12572)
ترقیم عوامۃ: 12573 ترقیم الشثری: -- 12839
١٢٨٣٩ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق قال: طرحت جارية طنا من قصب على صبي فقتلته، فاتى (مسروق في) (١) ذلك فقال: هل (تعلم) (٢) لها من موالي؟ قالوا: لا ندري من مواليها، قال: (فهل) (٣) لها مال؟ قالوا: (ما) (٤) نعلم (لها) (٥) (مالا) (٦) ، قال: فمروها ان تصوم شهرين متتابعين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز، ص]: وردت (مسروق في ذلك)، وفي [ب]: (مسروق ذلك)، وفي [ن]: (مسروقًا ذلك).
(٢) في [أ، ب، جـ، ز، ن]: زيادة (تعلم)، وفي [ص]: (يعلم).
(٣) في [أ]: (هل).
(٤) في [أ]: (إنا).
(٥) في [أ، ب، جـ، ز، ص]: زيادة (لها).
(٦) في [أ، جـ]: (مال).
حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، قال: طرحت جارية طنا من قصب على صبي فقتلته , فاتي مسروق في ذلك , فقال:" هل لها من موالي؟" قالوا: لا ندري من مواليها قال:" فهل لها مال؟" قالوا: ما نعلم لها مالا , قال:" فمروها ان تصوم شهرين متتابعين"
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی بچہ پر پھینک کر اس کو مار دیا اس کو حضرت مسروق کے پاس لائے، آپ نے فرمایا کیا اس کے موالی ہیں؟ لوگوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم، آپ نے پوچھا کیا اس کے پاس مال ہے؟ کہا ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے پاس مال ہے کہ نہیں، آپ نے فرمایا اس کو حکم دو کہ وہ لگاتار ساٹھ روزے رکھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 12839]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12839، ترقيم محمد عوامة 12573)