🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

100. في الرجل يحلف على الطعام
کوئی شخص کھانے پر قسم کھا لے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12765 ترقیم الشثری: -- 13042
١٣٠٤٢ - حدثنا وكيع عن اسلم مولى عنبسة انه قال: سالت سعيد بن المسيب عن امراة حلفت لا تشرب من لبن عنز لزوجها، فشربت، (قال) (١) : ليس عليها شيء، ليس في الطعام والشراب يمين.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ز]: (قالا).
حدثنا وكيع، عن اسلم مولى عنبسة، انه قال: سالت سعيد بن المسيب، عن امراة حلفت لا تشرب من لبن عنز لزوجها , فشربت , قال:" ليس عليها شيء , ليس في الطعام والشراب يمين"
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا کہ ایک عورت نے قسم کھائی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بکری کا دودھ نہیں پیئے گی پھر اس نے پی لیا؟ فرمایا اس پر کچھ نہیں ہے، کھانے پینے میں قسم نہیں ہوتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 13042]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13042، ترقيم محمد عوامة 12765)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12766 ترقیم الشثری: -- 13043
١٣٠٤٣ - حدثنا جعفر (بن) (١) ابن عون عن ابي العميس عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: كان رجل له اعنز، فحلف ان لا يشرب من البانها، فلما رات امراته ذلك حلفت ان لا تشرب من البانها، (فخلوا) (٢) الاعنز وضيعوهن، فاتى عبد الله فذكر (له ذلك) (٣) فقال: إنما ذا من الشيطان، ارجعا إلى احسن ما كنتما عليه واشربا (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ص، ز، ن]: (عن).
(٢) في [ز، ص]: (فجفوا).
(٣) في [ص]: (ذلك له).
(٤) صحيح.

حدثنا حدثنا جعفر، عن ابن عون، عن ابي العميس، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، قال: كان رجل له اعنز , فحلف ان لا يشرب من البانها , فلما رات امراته ذلك حلفت ان لا تشرب من البانها , فجفوا الاعنز وضيعوهن , فاتى عبد الله فذكر له ذلك , فقال:" إنما ذا من الشيطان، ارجعا إلى احسن ما كنتما عليه واشربا"
حضرت طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ ایک شخص کے پاس کچھ بکریاں تھیں اس نے قسم کھالی کہ ان کا دودھ نہیں پیئے گا، جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا تو اس نے قسم کھالی کہ وہ انکا دودھ نہیں پیئے گی، پس بکریاں خشک اور برباد ہوگئیں، پھر وہ حضرت عبد اللہ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا یہ شیطان کی طرف سے ہے، تم دونوں لوٹو اس کی طرف سے جو تم دونوں کے لیے سب سے اچھا ہے اور پھر اس کا دودھ پیؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 13043]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13043، ترقيم محمد عوامة 12766)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12767 ترقیم الشثری: -- 13044
١٣٠٤٤ - حدثنا جرير (عن) (١) عبد العزيز بن رفيع عن مجاهد قال: كان لرجل من الانصار ضيف، فابطا عن اهله، فقال: (عشيتم) (٢) (٣) ؟ قالوا: لا. قال: (لا) (٤) والله لا اطعم الليلة [من عشائكم، فقالت (امراته) (٥) : إذا والله لا اطعمه، قال: فقال الضيف: و (انا) (٦) والله لا اطعمه ايضا] (٧) ، قال: فقال: يبيت ضيفي بغير طعام، قربوا طعامكم، فاكلوا معه فلما اصبح غدا إلى رسول الله ﷺ فاخبره بذلك، فقال:"اطعت الله وعصيت الشيطان" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (بن).
(٢) في [ز]: (غشيتم).
(٣) في [أ، ب، ن]: زيادة (أهلي).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) في [ز]: (امرأة).
(٦) في [ن، أ، ب]: (إذًا).
(٧) سقط ما بين المعكوفين من [ص].
(٨) مرسل، أخرجه عبد الرزاق (٨/ ١٦٠٤٥)، وابن أبي الدنيا في إكرام الضيف (٨٥).

حدثنا جرير ، عن عبد العزيز بن رفيع ، عن مجاهد ، قال: " كان لرجل من الانصار ضيف , فابطا عن اهله , فقال: عشيتم اهلي؟ قالوا: لا، قال: لا والله، لا اطعم الليلة من عشائكم , فقالت امراة: إذا والله لا اطعمه , قال: فقال الضيف: وانا والله لا اطعمه ايضا , قال: فقال: يبيت ضيفي بغير طعام , قربوا طعامكم , فاكلوا معه، فلما اصبح غدا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بذلك , فقال: اطعت الله وعصيت الشيطان"
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص کے مہمان تھے اس کے گھر والوں نے دیر کردی، انصاری نے پوچھا تم نے میرے مہمان کو رات کا کھانا کھلایا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، انصاری نے کہا تب میں بھی اللہ کی قسم رات کو تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا، اس کی بیوی نے کہا تب میں بھی نہیں کھاؤں گی، مہمان نے کہا اللہ کی قسم میں بھی نہیں کھاؤں گا، انصاری نے کہا میرا مہمان بغیر کھانے کے رات گزارے! اپنا کھانا لاؤ پھر اس نے ان کے ساتھ کھایا، پھر صبح جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے واقعہ کی قبر دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ کی اطاعت کی اور شیطان کی نافرمانی کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 13044]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13044، ترقيم محمد عوامة 12767)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں