🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. باب صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لاَ يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ.
باب: رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں اور ان کے استحباب کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1156 ترقیم شاملہ: -- 2717
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: " وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ، حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ ".
سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! رمضان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی متعین مہینے کے (پورے) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے، جب تک کہ اس میں سے (کچھ دنوں کے) روزے رکھ (نہ) لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2717]
عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے سوا کسی اور متعین ماہ کے روزے رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ماہ رمضان کے سوا کسی مہینے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے روزے کبھی نہیں رکھے، یہاں تک کہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور نہ پورے ماہ کے چھوڑے روزے کچھ نہ کچھ رکھے بغیر چھوڑے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2717]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1156 ترقیم شاملہ: -- 2718
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟، قَالَتْ: " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ، وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ، حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مہینے کے روزے چھوڑے، تا آنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے (کچھ دنوں کے) روزے رکھ (نہ) لیتے، یہاں تک کہ آپ اپنی (دائمی منزل کی) راہ پر تشریف لے گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2718]
عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ماہ کے مکمل روزے رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا میرے علم میں رمضان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ماہ کے مکمل روزے نہیں رکھے اور نہ پورے ماہ کے روزے چھوڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ کچھ نہ کچھ روزے رکھتے تھے حتی کہ سفر آخرت پر چلے گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2718]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1156 ترقیم شاملہ: -- 2719
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّ أَيُّوبَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَمَضَانَ "،
حماد نے ایوب اور ہشام سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی۔ حماد نے کہا: میرا خیال ہے، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا۔ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے پر روزے رکھتے جا رہے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرتے (روزے رکھنا ترک کر دیتے) حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل افطار کر رہے ہیں۔ کہا: جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں، اس کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2719]
عبداللہ بن شقیق رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نےجواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتی کہ ہم کہتے تھے روزے رکھ رہے ہیں روزے رکھ رہے ہیں اور روزے چھوڑدیتے حتی کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ رہے ہیں اور انھوں نے بتایا: جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی رمضان کے سوا پورے ماہ کے روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2719]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1156 ترقیم شاملہ: -- 2720
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْإِسْنَادِ هِشَامًا، وَلَا مُحَمَّدًا.
قتیبہ نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں حماد نے ایوب سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا۔۔۔ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند، انہوں نے سند میں ہشام اور محمد کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2720]
امام صاحب یہی روایت قتیبہ سے بیان کرتے ہیں لیکن اس سند میں ہشام اور محمد کا نام نہیں لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2720]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1156 ترقیم شاملہ: -- 2721
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ، إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا، فِي شَعْبَانَ ".
عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابونضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان (بن عوف) سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے۔ اور میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی (اور) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2721]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتی کہ ہم یہ خیال کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب ناغہ نہیں کریں گے اور آپ روزے نہ رکھتے حتی کہ (مسلسل روزے نہ رکھنے سے) ہمیں خیال گزرتا اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھے ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2721]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1156 ترقیم شاملہ: -- 2722
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا ".
ابن ابی لبید نے ابوسلمہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی اور مہینے میں شعبان کے روزوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (گویا) پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے، محض چند دن چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2722]
ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے رہتے حتی کہ ہمارا خیال ہوتا روزہ رکھتے ہی رہیں گے اور (کبھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے شروع نہ کرتے حتی کہ ہمیں کیال گزرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ناغہ کریں گے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے بہت کم روزے چھوڑتے تھے (للا کثرحکم الکل کے اصول کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2722]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1156
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 782 ترقیم شاملہ: -- 2723
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، وَكَانَ يَقُولُ: خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ يَقُولُ: أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ، مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ، وَإِنْ قَلَّ ".
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں، شعبان سے بڑھ کر، روزے نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اتنے ہی اعمال اپناؤ جتنوں کی تم طاقت رکھتے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم خود ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ قائم رہے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2723]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال بھر کسی ماہ میں شعبان سے زیادہ روزے دار نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے۔ اس قدر اعمال کرو۔ جو تمھارے بس میں ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ (اجرو ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا تم خود ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ کے ہاں محبوب ترین عمل وہ ہے جس پر صاحب عمل ہمیشگی کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2723]
ترقیم فوادعبدالباقی: 782
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1157 ترقیم شاملہ: -- 2724
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ "،
ابوعوانہ نے ابوبشر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو اتنے روزے رکھتے کہ کہنے والا کہتا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑتے تو (مسلسل) چھوڑتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ روزے نہیں رکھیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2724]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی کامل ماہ کے روزے نہیں رکھے، جب روزے شروع کرتے رکھتے ہی رہتے، حتی کہ کہنے والا کہتا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناغہ نہیں کریں گے اور جب روزے شروع نہ کرتے، ناغہ ہی کرتے رہتے تھے حتی کہ کہنے والا خیال کرتا نہیں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2724]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1157 ترقیم شاملہ: -- 2725
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ غُنْدَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " شَهْرًا مُتَتَابِعًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ".
شعبہ نے اسی سند کے ساتھ ابوبشر سے (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی اور (پورا مہینہ کے بجائے) جب سے مدینہ آئے متواتر کوئی مہینہ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2725]
امام صاحب محمد بن بشار اور ابو بکر بن نافع سے ابو بشر کی ہی سند سے بیان کرتے ہیں اور اس میں ہے جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ماہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2725]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1157 ترقیم شاملہ: -- 2726
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ، حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ "،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث سنائی، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے رجب میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا، اور ہم ان دنوں رجب میں ہی تھے، تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2726]
عثمان بن حکیم انصاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے ماہ رجب میں سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رجب کے روزے کے بارے میں سوال کیا؟ تو انھوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بسا اوقات) روزے شروع کرتے حتی کہ ہمیں خیال گزرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار نہیں کریں گے (اور بسا اوقات اس کے بر عکس) روزے شروع نہ کرتے حتی کہ ہم خیال کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2726]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں