صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب اسْتِحْبَابِ الطّيبِ قُبيْلَ الْإِحْرَامِ فِي الْبَدَنِ وَاسْتِحُبَا بِهِ بِالْمِسْكِ وَأَنَّهُ لٓا بَاْسَ بِبِقَاءِ وَبِيصِهِ وَهُوَ بَريقَةٌ وَّلَمْعَانْهُ
باب: احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور کستوری کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 1192 ترقیم شاملہ: -- 2844
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ".
سفیان نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا انہوں نے کہا: ”یہ بات کہ میں تار کول مل لوں مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ (محمد نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ان (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے گئے پھر آپ محرم ہو گئے (احرام کی نیت کر لی)۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2844]
ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”میں تارکول مل لوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ تو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول سے آگاہ کیا، اس پر انہوں نے جواب دیا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہرات کے پاس گئے، پھر صبح احرام باندھ لیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2844]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1192
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة