🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. باب جَدْرِ الْكَعْبَةِ وَبَابِهَا:
باب: خانہ کعبہ کی دیواروں اور دروازوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1333 ترقیم شاملہ: -- 3249
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حدثنا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ؟ قَالَ: " إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ "، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا؟ قَالَ: " فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا، وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ، لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ "،
ابوحوص نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا) ہمیں اشعث بن ابی شعثاء نے اسود بن یزید سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حطیم کی) دیوار کے بارے میں دریافت کیا کیا وہ بیت اللہ میں سے ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کی: تو انہوں نے اسے بیت اللہ میں شامل کیوں نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: تمہاری قوم کے پاس خرچ کم پڑ گیا تھا۔ میں نے عرض کی اس کا دروازہ کیوں اونچا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کام تمہاری قوم نے کیا تاکہ جسے چاہیں اندر داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں منع کر دیں اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت کے قریب کا نہ ہوتا اس وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ ان کے دل اسے ناپسند کریں گے تو میں اس پر غور کرتا کہ (حطیم کی) دیوار کو بیت اللہ میں شامل کر دوں اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3249]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کی دیوار کے بارے میں دریافت کیا، کہ کیا وہ بیت اللہ کا حصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں نے پوچھا، تو انہوں نے اسے بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری قوم کے پاس خرچہ کم تھا۔ میں نے عرض کیا، تو اس کا دروازہ کیوں بلند رکھا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری قوم نے یہ کام اس لیے کیا تاکہ وہ جسے چاہیں اس میں داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں روک لیں، اور اگر تیری قوم جاہلیت کے دور سے نئی نئی نہ نکلی ہوتی، جس کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اپنے دل میں اس کو ناگوار محسوس کریں گے، تو میں حطیم کو بیت اللہ میں داخل کرنے کے بارے میں سوچتا اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملانے کے بارے میں سوچتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3249]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1333
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1333 ترقیم شاملہ: -- 3250
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حدثنا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا لَا يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلَّا بِسُلَّمٍ، وَقَالَ: مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ.
شیبان نے ہمیں اشعث بن ابی شعثاء سے حدیث بیان کی انہوں نے اسود بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا۔ آگے ابوحوص کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور اس میں کہا: میں نے عرض کی: اس کا دروازہ کسی وجہ سے اونچا ہے اس پر سیڑھی کے بغیر چڑھا نہیں جا سکتا۔ اور (شیبان نے یہ بھی) کہا: اس ڈر سے کہ ان کے دل اسے ناپسند کریں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3250]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجر کے بارے میں سوال کیا، آ گے مذکورہ بالا روایت ہے، اور اس میں یہ ہے، میں نے عرض کیا، کیا بات ہے کہ اس کا دروازہ بلند ہے، اور سیڑھی کے بغیر اس تک چڑھا نہیں جا سکتا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ڈر سے کہ ان کے دلوں میں نفرت پیدا ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3250]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1333
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں