🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. بَابُ إِذَا بَكَى الإِمَامُ فِي الصَّلاَةِ:
باب: جب امام نماز میں رو دے (تو کیسا ہے؟)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q716
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: سَمِعْتُ نَشِيجَ عُمَرَ وَأَنَا فِي آخِرِ الصُّفُوفِ يَقْرَأُ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ.
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ (تابعی) نے بیان کیا کہ میں نے نماز میں عمر رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز سنی حالانکہ میں آخری صف میں تھا۔ آپ آیت شریفہ «إنما أشكو بثي وحزني إلى الله‏» پڑھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: Q716]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 716
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي مَرَضِهِ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ، قَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلّ لِلنَّاسِ، قَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں فرمایا کہ ابوبکر سے لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ ابوبکر اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے آپ عمر رضی اللہ عنہ سے فرمائیے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ آپ نے پھر فرمایا کہ نہیں ابوبکر ہی سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ اگر ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد کر کے گریہ و زاری کی وجہ سے لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ سے کہئے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہہ دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بس چپ رہو، تم لوگ صواحب یوسف سے کسی طرح کم نہیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ بعد میں حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ بھلا مجھ کو تم سے کہیں بھلائی ہونی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 716]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض (وفات) میں فرمایا: ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیجیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی قراءت نہیں سنا سکیں گے، لہذا آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیجیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، چنانچہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسے ہی کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چپ رہو! تم تو یوسف علیہ السلام والی عورتوں کی طرح معلوم ہوتی ہو۔ ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے کبھی تجھ سے بھلائی نہیں پائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 716]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں