مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
35. ما قالوا: فيمن يحارب ويسعى في الأرض فسادا ثم يستأمن من قبل أن يقدر عليه في حربه
جن لوگوں نے یوں کہا ا س شخص کے بارے میں جو لڑائی کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرے پھر امان طلب کرے اس بات سے پہلے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہو
ترقیم عوامۃ: 33459 ترقیم الشثری: -- 34986
٣٤٩٨٦ - حدثنا ابو اسامة عن مجالد عن عامر قال: كان حارثة بن (بدر) (١) التميمي من اهل البصرة قد افسد في الارض وحارب، فكلم الحسن بن علي وابن جعفر وابن عباس وغيرهم من قريش، فكلموا عليا فلم يؤمنه، فاتى سعيد بن قيس الهمداني فكلمه، فانطلق سعيد إلى علي وخلفه في منزله، فقال: يا امير المؤمنين كيف تقول فيمن حارب الله ورسوله وسعى في الارض فسادا؟ فقرا: ﴿إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله﴾ [المائدة: ٣٣] ، حتى قرا الآية كلها، فقال سعيد: افرايت من تاب قبل ان نقدر عليه؟ فقال علي: اقول كما قال ويقبل منه، قال: فإن حارثة بن بدر قد تاب قبل ان نقدر عليه، فبعث إليه فادخله عليه فامنه وكتب له كتابا، فقال: حارثة: الا ابلغن همدان إما لقيتها سلاما … (فلا) (٢) يسلم عدو يعيبها لعمر ابيك إن همدان تتقي … الإله ويقضي بالكتاب خطيبها تشيب راسي (واستخف) (٣) حلومنا … رعود المنايا حولنا وبروقها وإنا لتستحلي المنايا نفوسنا … ونترك اخرى مرة ما نذوقها
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (يزيد).
(٢) في [س]: (فلن).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (واستحلت).
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حارثہ بن بدر التمیمی اہل بصرہ میں سے تھا اس نے زمین میں فساد پھیلایا اور جنگ کی۔ پھر اس نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابن جعفر رحمہ اللہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قریش کے چند افراد سے امان کے بارے میں بات چیت کی۔ ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بات کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو امان نہیں دی۔ پس حارثہ بن بدر حضرت سعید بن قیس الھمدانی رحمہ اللہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں بات کی۔ تو حضرت سعید رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اس کو پیچھے اپنے گھر میں چھوڑ دیا۔ اور فرمایا: اے امیر المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے جنگ کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ: صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول 5 سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے میں بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مکمل آیت تلاوت فرمائی۔ اس پر حضرت سعید نے فرمایا: آپ رضی اللہ عنہ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جو خود پر قابو دینے سے پہلے ہی توبہ کرلے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں وہی کہوں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے توبہ قبول کی جائے گی۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: بیشک حارثہ بن بدر نے خود پر قابو دینے سے پہلے توبہ کی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلانے کے لیے قاصد بھیجا۔ پس اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے لایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو امان دی اور اس کے لیے ایک تحریر لکھ دی۔ اس پر حارثہ نے یہ اشعار کہے: میری طرف سے ہمدان کو سلام پہنچاؤ جب تم وہاں پہنچو، اس کا دشمن سالم نہ رہے۔ یقینی طور پر ہمدان کے لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کا خطیب کتاب اللہ سے فیصلہ کرتا ہے۔ میرا سر سفید ہوگیا اور ہماری عقلیں ماند پڑگئیں۔ ہمارے اردگرد کی کڑک اور چمک سے۔ ہمارے نفوس موت کو شیریں سمجھتے ہیں۔ جبکہ زندگی کو ہم کڑوا سمجھتے ہیں۔ حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابن جعفر رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم ھمدان والوں سے ان اشعار کے زیادہ حقدار تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34986]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34986، ترقيم محمد عوامة 33459)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34987
٣٤٩٨٧ - قال (١) عامر: فحدثت بهذا الحديث (عبد الله) (٢) بن جعفر فقال: نحن كنا احق بهذه الابيات من همدان (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (ابن).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34987، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 33460 ترقیم الشثری: -- 34988
٣٤٩٨٨ - [حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن اشعث عن الشعبي عن علي بنحو منه ولم يذكر فيه الشعر] (١) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) ضعيف؛ لضعف أشعث.
امام شعبی رحمہ اللہ سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مذکورہ ارشاد اس سند سے مروی ہے۔ لیکن انہوں نے اس میں شعر کا ذکر نہیں فرمایا: [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34988]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34988، ترقيم محمد عوامة 33460)
ترقیم عوامۃ: 33461 ترقیم الشثری: -- 34989
٣٤٩٨٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن اشعث عن الشعبي زعم ان رجلا من مراد حل، فلما سلم ابو موسى قام فقال: هذا مقام التائب العائذ فقال: ويلك مالك، قال: انا فلان بن فلان المرادي، وإني كنت حاربت الله ورسوله وسعيت في الارض فسادا، فهذا حين جئت وقد تبت من قبل ان تقدر علي، قال: فقام ابو موسى المقام الذي قام فيه، ثم قال: إن هذا فلان بن فلان المرادي، وانه كان حارب الله ورسوله وسعى في الارض فسادا، وانه قد تاب من قبل ان نقدر عليه، فإن يك صادقا فسبيل من صدق، وإن كان كاذبا ياخذه الله بذنبه، قال: فخرج في الناس فذهب ولحى ثم عاد فقتل (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف أشعث.
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ مراد کے ایک آدمی نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو وہ شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: یہ توبہ کرنے والے اور پناہ مانگنے والے کی جگہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہلاکت ہو تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں مرادی ہوں۔ اور تحقیق میں نے اللہ اور اس کے رسول 5 سے جنگ کی اور میں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھاگ دوڑ کی۔ اور تحقیق میں اب آیا ہوں اس حال میں کہ میں نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے توبہ کی۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اس جگہ میں کھڑے ہوئے جہاں وہ کھڑا تھا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: بیشک یہ فلاں بن فلاں مرادی ہے اور اس نے اللہ اور اس کے رسول 5 سے جنگ کی اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کی اور بیشک اس نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے ہی توبہ کرلی۔ پس اگر یہ شخص سچا ہے تو اس کے ساتھ سچوں والا معاملہ ہے۔ اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اللہ رب العزت اس کے گنا ہ کی وجہ سے اس کو پکڑے گا۔ راوی کہتے ہیں: پس وہ شخص لوگوں میں نکلا اور چلا گیا اور نجات پا لی۔ پھر اس نے دوبارہ وہی کام کیا تو اس کو قتل کردیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34989]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34989، ترقيم محمد عوامة 33461)