🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. ما قالوا: في الفتح يأتي فيبشر به الوالي فيسجد سجدة الشكر
جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدئہ شکر ادا کرے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 35054
٣٥٠٥٤ - وكان إبراهيم يكرهها.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35054، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33520 ترقیم الشثری: -- 35055
٣٥٠٥٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: سجدة الشكر بدعة.
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: سجدئہ شکر ادا کرنا بدعت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35055]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35055، ترقيم محمد عوامة 33520)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33521 ترقیم الشثری: -- 35056
٣٥٠٥٦ - حدثنا هشيم قال: ثنا الكلبي عن ابي صالح عن ابن عباس قال: لما نزل نكاح زينب انطلق زيد بن حارثة حتى استاذن على زينب قال: ⦗٢٨٦⦘ فقالت زينب: ما لي ولزيد؟ قال: فارسل إليها (إني رسول) (١) رسول الله ﷺ قال: فاذنت له فبشرها ان الله زوجها من نبيه ﷺ، قال: فخرت ساجدة (شكرا لله) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [ط، هـ]: (شكر اللَّه).
(٣) ضعيف جدًا؛ الكلبي متروك.

حضرت ابو صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ختم ہوگیا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ چلے گئے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اب زید کو مجھ سے کیا کام؟ راوی فرماتے ہیں: کہ حضرت زید رحمہ اللہ نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ان کو اجازت مرحمت فرما دی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا نکاح اپنے نبی 5 سے کردیا یہ سن کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ میں گرپڑیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35056]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35056، ترقيم محمد عوامة 33521)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33522 ترقیم الشثری: -- 35057
٣٥٠٥٧ - حدثنا (هشيم) (١) قال: اخبرنا مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره سجدة (الفرح) (٢) ويقول: ليس فيها ركوع ولا سجود.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (هشام).
(٢) في [أ، ب]: (الفرج).

حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرحت و خوشی کے سجدے کو مکروہ سمجھتے تھے اور فرماتے تھے نہ تو اس میں رکوع ہے اور نہ سجدہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35057]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35057، ترقيم محمد عوامة 33522)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33523 ترقیم الشثری: -- 35058
٣٥٠٥٨ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا (إسماعيل) (١) بن (زربي) (٢) قال: حدثني الريان بن صبرة الحنفي انه شهد يوم النهروان، قال: وكنت فيمن استخرج ذا الثدية فبشر به علي قبل ان ينتهي إليه، قال: فانتهى إليه وهو ساجد فرحا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (سفيان).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (رزين).
(٣) مجهول؛ لجهاله الريان بن صبرة.

حضرت اسماعیل بن زر بی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ریان بن صبرہ حنفی رحمہ اللہ جنگ نہروان میں موجود تھے۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ذوثدیہ کو نکالا تھا۔ اس کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچنے سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کے آنے کی خبر ہوگئی تھی۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ خوشی کی وجہ سے سجدہ میں تھے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے جانے سے پہلے اس بات کی خوشخبری سنائی تھی۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ رضی اللہ عنہ فرط خوشی میں سجدہ ادا کر رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35058]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35058، ترقيم محمد عوامة 33523)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33524 ترقیم الشثری: -- 35059
٣٥٠٥٩ - حدثنا زيد بن الحباب قال: اخبرنا موسى بن عبيدة عن قيس بن عبد الرحمن بن (ابي) (١) صعصعة عن سعد بن إبراهيم عن (ابيه) (٢) عن جده عبد الرحمن بن عوف قال: انتهيت إلى النبي ﷺ (وهو ساجد) (٣) ، فلما انصرف ⦗٢٨٧⦘ قلت: يا رسول الله اطلت السجود؟ قال: إني سجدت (شكرا لله) (٤) فيما ابتلاني (من) (٥) امتي (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (علي).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [هـ]: (شكر اللَّه).
(٥) في [جـ]: (في).
(٦) مجهول؛ لجهالة قيس بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة، أخرجه أبو يعلى (٨٥٨)، والبزار (١٠٠٦)، والحاكم ١/ ٣٤٤، وأحمد (١٦٦٢)، والعقيلي ٣/ ٤٦٧، والبيهقي ٢/ ٣٧٠.

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کر رہے تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول 5! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا سجدہ کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کیا کہ اس نے میری امت کے بارے میں عذر قبول فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35059]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35059، ترقيم محمد عوامة 33524)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں