🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. ما قالوا: فيما ذكر من الرماح واتخاذها
ان روایات کا بیان جن میں نیزہ ساز اور اس کے بنانے کا ذکر ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33681 ترقیم الشثری: -- 35220
٣٥٢٢٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن سعيد بن جبلة عن طاوس ان النبي ﷺ قال:"إن الله بعثني بالسيف بين يدي الساعة، وجعل رزقي تحت ظل رمحي، وجعل الذل والصغار على من خالفني، ومن تشبه بقوم فهو منهم" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ طاوس تابعي، أخرجه ابن المبارك في الجهاد (١٠٥).
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھے تلوار دے کر بھیجا ہے قیامت سے پہلے اور اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے مقر ر کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ذلت اور رسوائی مقدر کی ہے اس شخص کے نصیب میں جو میری مخالفت کرے گا۔ اور جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ ان ہی میں سے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35220]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35220، ترقيم محمد عوامة 33681)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33682 ترقیم الشثری: -- 35221
٣٥٢٢١ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن الاوزاعي عن سعيد بن جبلة عن طاوس قال: قال رسول الله ﷺ، ثم ذكر مثله (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ طاوس تابعي.
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35221]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35221، ترقيم محمد عوامة 33682)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33683 ترقیم الشثری: -- 35222
٣٥٢٢٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ابي إسحاق عن ابي الخليل عن علي قال: كان المغيرة بن شعبة إذا غزا مع النبي ﷺ حمل معه رمحا، فإذا (رجعنا) (١) طرحه كي يحمل له فقال (له) (٢) علي: لاذكرن هذا للنبي ﷺ فقال: لا تفعل، فإنك إن فعلت لم ترفع ضالة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (رجع).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) حسن؛ أبو الخليل صدوق، أخرجه أحمد (١٢٧١)، والنسائي (٥٨٠٧)، وابن ماجه (٢٨٠٩)، وأبو يعلى (٣١١)، والضياء (٥٨٦)، وابن جرير في مسند علي من تهذيب الآثار (٣٦).

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رحمہ اللہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں جاتے تو اپنے ساتھ ایک نیزہ رکھتے۔ جب واپس لوٹتے تو اس کو پھینک دیتے تاکہ کوئی اسے ان کا سمجھ کر اٹھا لے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ضرور بالضرور یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کروں گا اس پر انہوں نے فرمایا: تم ایسا مت کرنا۔ اس لیے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو گمشدہ چیز نہیں اٹھائی جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35222]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35222، ترقيم محمد عوامة 33683)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33684 ترقیم الشثری: -- 35223
٣٥٢٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا مصعب بن سليم قال: سمعت انس بن مالك (يقول: إن ابا موسى اراد ان يستعمل البراء بن مالك) (١) فاتى فقال له البراء بن مالك: اعطني سيفي (وترسي) (٢) ورمحي (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (وبرنسي)، وفي [هـ]: (قوسي).
(٣) صحيح.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رحمہ اللہ نے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کو امیر بنانے کا ارادہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا اور حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: مجھے میری تلوار، میری ڈھال اور میر انیزہ دے دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35223]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35223، ترقيم محمد عوامة 33684)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33685 ترقیم الشثری: -- 35224
٣٥٢٢٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن إسماعيل بن امية عن مكحول قال: إنما كانت الحربة تحمل مع النبي ﷺ ليصلي إليها (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ مكحول تابعي.
حضرت اسماعیل بن امیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نیزہ بھی لے جایا جاتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سامنے رکھ کر نماز پڑھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35224]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35224، ترقيم محمد عوامة 33685)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33686 ترقیم الشثری: -- 35225
٣٥٢٢٥ - حدثنا ابو اسامة قال: ثنا مصعب بن سليم الزهري قال: ثنا انس بن مالك قال: لما بعث ابو موسى على البصرة، كان ممن بعث البراء بن مالك، وكان من (وزرائه) (١) ، فكان يقول له: اختر عملا، فقال البراء: ومعطي انت ما سالتك؟ قال: نعم، قال: اما إني لا اسالك إمارة مصر ولا جباية خراج، ولكن ⦗٣٤١⦘ اعطني قوسي وفرسي ورمحي و (سيفي) (٢) و (ذرني) (٣) إلى الجهاد في سبيل الله، فبعثه على جيش فكان اول من قتل (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (ورائه).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (وزدني).
(٤) حسن؛ معصب بن سليم صدوق.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رحمہ اللہ کو بصرہ کا امیر بنا کر بھیجا گیا تو ان کے ساتھ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا گیا۔ اور یہ ان کے وزیروں میں سے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہان سے فرمایا کرتے تھے۔ تم بھی کوئی کام اختیار کرلو۔ اس پر حضرت براء رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا جو عہدہ میں تم سے مانگوں گا وہ تم مجھے دو گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: بلاشبہ میں تم سے شہر کی نگرانی اور خراج کی وصول یابی کا عہدہ نہیں مانگتا لیکن تم مجھے میری کمان، میرا گھوڑا، میرا نیزہ اور میری تلوار دے دو، اور مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے چھوڑ دو پس آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو لشکر پر امیر بنا کر بھیج دیا تو یہ شہید ہونے والے سب سے پہلے شخص تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35225]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35225، ترقيم محمد عوامة 33686)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33687 ترقیم الشثری: -- 35226
٣٥٢٢٦ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: ثنا عبد الرحمن بن ثابت قال: ثنا حسان ابن عطية عن ابي منيب الجرشي عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"إن الله جعل رزقي تحت (ظل) (١) رمحي، وجعل الذلة والصغار على من خالف امري، (ومن) (٢) تشبه بقوم (فهو) (٣) منهم" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (من).
(٣) في [أ]: (قهو).
(٤) ضعيف؛ عبد الرحمن بن ثابت ضعيف، أخرجه أحمد (٥١١٥)، وأبو داود (٤٠٣١)، وعبد بن حميد (٨٤٨)، والطبراني في مسند الشاميين (٢١٦)، والبيهقي في شعب الإيمان (١١٩٩)، وابن الأعرابي في المعجم (١١٣٧)، والذهبي في سير أعلام النبلاء ١٥/ ٥٠٩، وابن حجر في تغليق التعليق ٣/ ٤٤٥.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا اللہ رب العزت نے میرا رزق نیزے کے سائے کے نیچے مقرر کیا ہے۔ اور اللہ رب العزت نے ذلت اور رسوائی اس شخص کے مقدر کی ہے۔ جو میرے حکم کی مخالفت کرے گا، اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ ان میں سے ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35226]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35226، ترقيم محمد عوامة 33687)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں