🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

81. بَابُ صَلاَةِ اللَّيْلِ:
باب: رات کی نماز۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ حَصِيرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ فَثَابَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَصَلَّوْا وَرَاءَهُ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، مقبری کے واسطہ سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بچھاتے تھے اور رات میں اس کا پردہ کر لیتے تھے۔ پھر چند لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 730]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چٹائی تھی جسے آپ دن کے وقت بچھا لیتے اور رات کو اس کا حجرہ بنا لیتے تھے۔ کچھ لوگ آپ کے پاس جمع ہونے لگے اور انہوں نے آپ کے پیچھے (صف بنا کر) نماز پڑھنا شروع کر دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 730]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 731
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ"، قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، عَنْ بُسْرٍ، عَنْ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ابوالنضر سالم سے، انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے، لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو۔ مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنی ضروری ہے) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے، وہ زید بن ثابت سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 731]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں ایک حجرہ بنایا تھا، میرا گمان ہے کہ وہ چٹائی کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ رہے، پھر ان کی طرف تشریف لائے اور فرمایا: میں نے تمہارا عمل دیکھا اور تمہارا ارادہ پہچان لیا ہے۔ اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ افضل نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ادا ہو، مگر فرض نماز (کہ اس کی ادائیگی مسجد میں ہونی چاہیے)۔ عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، اس نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، اس نے بتایا کہ میں نے ابونضر بن ابوامیہ سے سنا، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں