سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
20. بَابٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ
باب: استنجاء کے احکام
ترقیم العلمیہ : 169 ترقیم الرسالہ : -- 173
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، نا أَبُو يَعْقُوبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى التَّوْأَمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتْبَعَهُ عُمَرُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أُؤْمَرْ أَنْ أَتَوَضَّأَ كُلَّمَا بُلْتُ، وَلَوْ فَعَلْتُ كَانَتْ سُنَّةً" . لا بَأْسَ بِهِ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يَعْقُوبَ التَّوْأَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ حَدَّثَ بِهِ عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الرُّفَعَاءِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک برتن میں پانی لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا، میں جب بھی پیشاب کروں تو فوراً وضو کر لوں۔ اگر میں نے ایسا کیا تو یہ چیز سنت بن جائے گی۔“ اس روایت کو دیگر سند کے ہمراہ بھی نقل کیا گیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 173]
ترقیم العلمیہ: 169
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 42، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 327، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 557، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 173، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25282، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4850، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 597»
«قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 327»
«قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 327»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 170 ترقیم الرسالہ : -- 174
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الأَنْصَارِيُّونَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الآيَةِ: فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ خَيْرًا فِي الطَّهُورِ، فَمَا طُهُورُكُمْ هَذَا؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَتَوَضَّأُ لِلصَّلاةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلْ مَعَ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِهِ؟"، قَالُوا: إِنَّ أَحَدَنَا إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِالْمَاءِ، فَقَالَ:" هُوَ ذَلِكَ فَعَلَيْكُمُوهُ" . عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.
طلحہ بن نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوایوب انصاری، سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری اور سیدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس آیت کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے (آیت یہ ہے:) ”اس میں وہ لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں: وہ اچھی طرح پاکیزگی حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے انصار کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے طہارت حاصل کرنے کے حوالے سے تمہاری بہت تعریف کی ہے، تمہارا طہارت حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت کی حالت میں غسل کر لیتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ تمہارا کوئی اور بھی طریقہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں! البتہ جب ہم میں سے کوئی شخص پاخانہ کرتا ہے، تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے، وہ پانی کے ذریعے استنجا کرے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی وجہ یہی ہو گی، تم اسے اختیار کیے رکھنا۔“ اس روایت کا راوی عتبہ بن ابوحکیم مستند نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 174]
ترقیم العلمیہ: 170
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 43، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2231، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 556، 678، 3306، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 355، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 518، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 174»
«(یہ سند ضعیف ہے، عتبہ بن أبی حکیم ضعیف راوی ہیں، اور طلحہ نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 34)»
«(یہ سند ضعیف ہے، عتبہ بن أبی حکیم ضعیف راوی ہیں، اور طلحہ نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 34)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف