سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
45. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْغُسْلِ بِفَضْلِ غُسْلِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت
ترقیم العلمیہ : 410 ترقیم الرسالہ : -- 417
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، نا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، وَلَكِنْ يَشْرَعَانِ جَمِيعًا" . خَالَفَهُ شُعْبَةُ.
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے: ”آدمی عورت کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے، یا عورت مرد کے (غسل کے) بچے ہوئے پانی سے غسل کرے، البتہ وہ دونوں ایک ساتھ غسل کر سکتے ہیں۔“ شعبہ نامی راوی نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 417]
ترقیم العلمیہ: 410
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 374، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 936، 937، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 417، 418، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 1564، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 78، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3741»
ترقیم العلمیہ : 411 ترقیم الرسالہ : -- 418
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ:" تَتَوَضَّأُ الْمَرْأَةُ وَتَغْتَسِلُ مِنْ فَضْلِ غُسْلِ الرَّجُلِ وَطَهُورِهِ، وَلا يَتَوَضَّأُ الرَّجُلُ بِفَضْلِ غُسْلِ الْمَرْأَةِ وَلا طَهُورِهَا" . وَهَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”عورت مرد کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کر سکتی ہے، البتہ مرد عورت کے غسل یا وضو سے بچے ہوئے پانی کے ذریعے وضو نہیں کر سکتا۔“ یہ روایت ”موقوف“ طور پر زیادہ مستند ہے اور یہی زیادہ درست ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 418]
ترقیم العلمیہ: 411
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 374، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 936، 937، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 417، 418، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 1564، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 78، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3741»