🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

61. بَابُ الْبِنَاءِ عَلَى غَالِبِ الظَّنِّ
باب: غالب گمان پر بنیاد رکھنا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1391 ترقیم الرسالہ : -- 1408
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَلا أَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لا، وَمَا ذَلِكَ؟"، قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا، فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، ثُمَّ يُتِمُّ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، اس روایت کے راوی ابراہیم بیان کرتے ہیں: مجھے یہ نہیں پتہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز میں کسی اضافے کا ذکر کیا گیا ہے یا کسی کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، کیوں کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا: آپ نے اس طرح نماز ادا کی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگیں سیدھی کیں، اپنا رخ قبلے کی طرف کیا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دیا، جب آپ نے سلام پھیر دیا، تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا، تو میں بتا دیتا، میں بھی انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، تو جب میں کوئی چیز بھول جاؤں، تو مجھے یاد کروا دیا کرو اور جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ درست صورت کے بارے میں کوشش کرے، پھر اسی حساب سے نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیرے اور اس کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1408]
ترقیم العلمیہ: 1391
تخریج الحدیث: «عند الشوھد صحیح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 572، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1028، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2656، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1019، 1020، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 392، 393، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1539، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1203، 1205، 1211، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1408، 1409، 1410، 1411، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 96، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 95، 206، 789، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3636»
«حديث ابن مسعود الذي يرويه منصور هو حديث معلول، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 355) _x000D_

الحكم على الحديث: عند الشوھد صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1392 ترقیم الرسالہ : -- 1409
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ درست صورت اختیار کرنے کی کوشش کرے، پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کرے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1409]
ترقیم العلمیہ: 1392
تخریج الحدیث: «عند الشوھد صحیح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 572، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1028، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2656، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1019، 1020، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 392، 393، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1539، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1203، 1205، 1211، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1408، 1409، 1410، 1411، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 96، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 95، 206، 789، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3636»
«حديث ابن مسعود الذي يرويه منصور هو حديث معلول، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 355) _x000D_

الحكم على الحديث: عند الشوھد صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1393 ترقیم الرسالہ : -- 1410
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ السُّكَيْنِ أَبُو مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثنا مِسْعَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ بِالصَّوَابِ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: میں بھی انسان ہوں، میں بھول جاتا ہوں، جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، اگر کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کون سی صورت نماز کے درست ہونے کے قریب ہے، پھر اسی حساب سے نماز کو مکمل کر لے اور پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1410]
ترقیم العلمیہ: 1393
تخریج الحدیث: «عند الشوھد صحیح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 572، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1028، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2656، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1019، 1020، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 392، 393، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1539، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1203، 1205، 1211، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1408، 1409، 1410، 1411، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 96، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 95، 206، 789، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3636»
«حديث ابن مسعود الذي يرويه منصور هو حديث معلول، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 355) _x000D_

الحكم على الحديث: عند الشوھد صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں