🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

77. بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْقَوْسِ وَالْقَرْنِ وَالنَّعْلِ وَطُرْحِ الشَّيْءِ فِي الصَّلَاةِ إِذَا كَانَ فِيهِ نَجَاسَةٌ
باب: کمان، سینگ، جوتا پہن کر نماز پڑھنا، جب کسی چیز میں نجاست لگی ہوئی تو اسے نماز کے دوران اتار دینا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1469 ترقیم الرسالہ : -- 1486
ثنا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةَ فِي الْقَوْسِ وَالْقَرْنِ، فَقَالَ:" اطْرَحِ الْقَرْنَ وَصَلِّ فِي الْقَوْسِ" .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کمان یا سینگ میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: سینگ کو اتار دو اور کمان پہن کر نماز پڑھو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1486]
ترقیم العلمیہ: 1469
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1252، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6101، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1486، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،،،، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 6318، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 6277»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1470 ترقیم الرسالہ : -- 1487
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، ثنا صَالِحُ بْنُ بَيَانٍ ، ثنا فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ سورة الأعراف آية 31، قَالَ: الصَّلاةُ فِي النَّعْلَيْنِ، وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلَيْهِ فَخَلَعَهُمَا فَخَلَعَ النَّاسُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ:" لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟"، قَالُوا: رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَانِي، فَقَالَ: إِنَّ فِيهِمَا دَمُ حَلَمَةٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ہر نماز کے وقت زینت اختیار کرو۔ وہ یہ فرماتے ہیں: اس سے مراد جوتے پہن کر نماز ادا کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز ادا کی، پھر آپ نے انہیں اتارا، تو لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ نے دریافت کیا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتار دیے ہیں، تو ہم نے بھی اتار دیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے یہ بتایا تھا کہ ان پر خون لگا ہوا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1487]
ترقیم العلمیہ: 1470
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1487، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11654، 12097، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 4022»
«قال ابن حجر: وإسناد كل منهما ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 502)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں