🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
باب: اگر مہینہ انتیس دن کا ہو تو؟
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2316 ترقیم الرسالہ : -- 2350
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ: حَدَّثَكُمْ صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، ثنا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" لَقَدْ صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا ثَلاثِينَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (یعنی آپ کے زمانہ اقدس میں) جتنی مرتبہ تیس روزے رکھے ہیں، اس سے زیادہ مرتبہ انتیس روزے رکھے ہیں (یعنی رمضان کا مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2350]
ترقیم العلمیہ: 2316
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1922، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2322، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 689، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8298، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2350، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3852، 3917، 3948، 4293، 4386، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 228، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10021، 10536، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2948، 3735»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2317 ترقیم الرسالہ : -- 2351
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ الثَّغْرِيُّ ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا سَعِيدٌ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قِيلَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَيَكُونُ شَهْرُ رَمَضَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؟ فَقَالَتْ:" مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلاثِينَ" . وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ أَيْضًا: مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلاثِينَ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ، وَالَّذِي قَبْلَهُ غَيْرُ ثَابِتٍ، لأَنَّ عَبْدَ الأَعْلَى بْنَ أَبِي الْمُسَاوِرِ مَتْرُوكٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے عرض کی گئی: اے ام المؤمنین! کیا رمضان کا مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (یعنی آپ کے زمانہ اقدس میں) جتنی مرتبہ تیس روزے رکھے ہیں، اس سے زیادہ مرتبہ انتیس روزے رکھے ہیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ کے ہمراہ جتنی مرتبہ تیس روزے رکھے ہیں۔ اس کی سند حسن صحیح ہے اور اس سے پہلے والی روایت ثابت نہیں ہے، کیونکہ اس کا راوی عبدالاعلیٰ بن ابوالمس متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2351]
ترقیم العلمیہ: 2317
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2351، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25156، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 1654»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح حسن، سنن الدارقطني: (3 / 182) برقم: (2351)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2318 ترقیم الرسالہ : -- 2352
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُعَدَّلُ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثنا الْمِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ الْمَدَنِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" مَا صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا ثَلاثِينَ" . الْمِسْوَرُ ضَعِيفٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جتنی مرتبہ تیس روزے رکھے ہیں، اس سے زیادہ مرتبہ انتیس روزے رکھے ہیں۔ اس روایت کا راوی مسور ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2352]
ترقیم العلمیہ: 2318
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2352، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5445»
«قال الدارقطني: المسور ضعيف .»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں