🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ طُلُوعِ الشَّمْسِ بَعْدَ الْإِفْطَارِ
باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا (یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2341 ترقیم الرسالہ : -- 2375
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ:" أَفْطَرْنَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ" . فَقِيلَ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: وَبُدٌّ مِنْ ذَلِكَ؟ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ثَابِتٌ.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم نے رمضان کے مہینے میں ایک دن، جب بادل چھائے ہوئے تھے، افطاری کر لی، لیکن بعد میں سورج نکل آیا (تو پتا چلا کہ افطاری کا وقت نہیں ہوا تھا)۔ ہشام نامی راوی سے دریافت کیا گیا: کیا ان لوگوں کو اس کی قضاء کرنے کا حکم دیا گیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: ایسا کرنا ضروری تھا۔ اس کی سند صحیح ہے اور ثابت ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2375]
ترقیم العلمیہ: 2341
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1959، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1991، بدون ترقيم، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2359، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1674، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8108، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2375، 2376، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27569»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ثابت، سنن الدارقطني: (3 / 193) برقم: (2375)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2342 ترقیم الرسالہ : -- 2376
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2376]
ترقیم العلمیہ: 2342
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1959، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1991، بدون ترقيم، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2359، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1674، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8108، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2375، 2376، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27569»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ثابت، سنن الدارقطني: (3 / 193) برقم: (2375)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں