سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. بَابُ الْأَكْلِ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ
باب: مشرکوں کے برتن میں کھانے کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4725 ترقیم الرسالہ : -- 4811
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الصَّلْتِ التَّمِيمِيُّ ، أَنَّ عَمَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ: كُلْهَا بِسْمِ اللَّهِ فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ" ،.
خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم اللہ کا نام لے کر اسے کھا لو کیونکہ جو شخص باطل دم کر کے کھاتا ہے، وہ غلط کرتا ہے، تم نے تو اسے حق دم کر کے کھانا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4811]
ترقیم العلمیہ: 4725
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6110، 6111، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2062، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7492، 10804، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3420، 3896، 3901، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4810، 4811، 4812، 4813، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22251، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24052»
«حديث ابن أبي السفر وزكريا أصح، علل الحديث: (6 / 508)»
«حديث ابن أبي السفر وزكريا أصح، علل الحديث: (6 / 508)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 4726 ترقیم الرسالہ : -- 4812
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ نَحْوَ ذَلِكَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4812]
ترقیم العلمیہ: 4726
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6110، 6111، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2062، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7492، 10804، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3420، 3896، 3901، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4810، 4811، 4812، 4813، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22251، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24052»
«حديث ابن أبي السفر وزكريا أصح، علل الحديث: (6 / 508)»
«حديث ابن أبي السفر وزكريا أصح، علل الحديث: (6 / 508)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 4727 ترقیم الرسالہ : -- 4813
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: فَأَعْطُونَا جُعْلا، فَقُلْتُ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" كُلْ"، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ ہوئے تو اس کے بعد حسب سابق حدیث، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے کہا: تم لوگ ہمیں اس کا معاوضہ دو گے، تو میں نے کہا: میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پوچھوں گا، میں نے آپ سے دریافت کیا: تو آپ نے کہا: ”تم اسے کھا لو۔“ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4813]
ترقیم العلمیہ: 4727
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6110، 6111، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2062، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7492، 10804، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3420، 3896، 3901، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4810، 4811، 4812، 4813، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22251، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24052»
«حديث ابن أبي السفر وزكريا أصح، علل الحديث: (6 / 508)»
«حديث ابن أبي السفر وزكريا أصح، علل الحديث: (6 / 508)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 4728 ترقیم الرسالہ : -- 4814
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلانِيُّ ، بِوَاسِطَ، نَا جَعْفَرُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ حَمَّادٍ الْوَاسِطِيُّ ، أنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَصْرِيِّ ، عَنْ نَهْشَلٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، وَمَكْحُولٌ الشَّامِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ، وَطَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ، فَاجْتَمَعُوا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ، وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فِي الْقَدَرِ، فَقَالَ طَاوُسٌ وَكَانَ فِيهِمْ مَرْضِيًّا: أَنْصِتُوا حَتَّى أُخْبِرَكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلا تُضَيِّعُوهَا، وَحَّدَ لَكُمْ حُدُودًا فَلا تَعْتَدُوهَا، وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلا تَكَلَّفُوهَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ فَاقْبَلُوهَا، نَقُولُ مَا قَالَ رَبُّنَا وَنَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الأُمُورُ بِيَدِ اللَّهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا، وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا، لَيْسَ إِلَى الْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلا مَشِيئَةٌ" ، فَقَامُوا وَهُمْ رَاضُونَ بِقَوْلِ طَاوُسٍ.
ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں: میں حسن بن ابوالحسن، مکحول، عمرو بن دینار اور طاؤس مسجد خیف میں اکٹھے ہوئے، یہ لوگ بلند آواز میں بحث کرنے لگے، یہ لوگ تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے، اس پر طاؤس بولے جو سب کے نزدیک پسندیدہ شخصیت تھے: تم خاموش ہو جاؤ! میں تمہیں وہ حدیث سناتا ہوں جو میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی زبانی سنی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں تم پر لازم قرار دی ہیں تو تم انہیں ضائع نہ کرو اور اس نے تمہارے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرو، اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے روک دیا ہے، تم ان کا ارتکاب کرنے کی کوشش نہ کرو اور کچھ معاملات ایسے ہیں، جن کے بارے میں اس نے بتایا نہیں وہ انہیں بھولا نہیں ہے، تم خود کو اس کا پابند نہ کرو، کیونکہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے، اسے قبول کر لو!۔“ (اس کے بعد طاؤس نے یہ کہا:) ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے پروردگار اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمام کام اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں، وہی ہر چیز کا حکم دیتا ہے، وہی ہر چیز کا اجر بھی دے گا، بندے کے بس میں کوئی بھی بات نہیں ہے، اس بارے میں بندے کی کوئی مرضی نہیں چلتی ہے۔ اس پر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے طاؤس کے قول کو پسند کیا (یعنی اس کو اختیار کیا)۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4814]
ترقیم العلمیہ: 4728
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4814، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7461، 8938، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1111،»