الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَمَا جَاءَ فِي التَّغْلِيسِ بِهَا وَالْإِسْفَارِ
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1177
عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيْسَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ فِي الْأُفُقِ وَلَكِنَّهُ الْمُعْتَرِضُ الْأَحْمَرُ) )
سیّدنا طلقؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجرِ (صادق) وہ نہیں ہے، جس میں روشنی افق میں بلند ہوتی ہے، بلکہ وہ ہے، جس میں سرخ روشنی چوڑائی میں (افق پر) پھیلتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 2348، والترمذي: 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16400»
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 2348
حدیث نمبر: 1178
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نِسَاءً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ وَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ
سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مؤمن خواتین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ فجر ادا کرتی تھیں، جبکہ وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتی تھیں اور کوئی آدمی اندھیرے کی وجہ سے ان کو پہچان نہ سکتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1178]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 372، 578، ومسلم: 645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24597»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 372
حدیث نمبر: 1179
عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي جَنَازَةٍ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! لِمَ أَسْكَتَّهُ؟ قَالَ: إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يُدْخَلَ قَبْرَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أُصَلِّي مَعَكَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَلْتَفِتُ فَلَا أَرَى وَجْهَ جَلِيسِي، ثُمَّ أَحْيَانًا تُسْفِرُ؟ قَالَ: كَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّيَهَا كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيَهَا
ابو ربیع کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، جب انھوں نے ایک آدمی کے چیخنے کی آواز سنی تو انھوں نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو خاموش کروا دیا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! آپ نے اس کو کیوں خاموش کرا دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اس طرح رونے سے میت کو قبر میں داخل ہونے تک تکلیف ہوتی ہے، پھر میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ نمازِ فجر پڑھتا ہوں اور جب میں اس نماز سے فارغ ہوتا ہوں اور (اندھیرے کی وجہ سے) اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، لیکن کبھی ایسے ہوتا ہے کہ تم روشنی کر دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اِ س نماز کو اسی طرح پڑھوں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1179]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابوشعبة الطحان متروك، وابو الربيع مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6195»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1180
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَسْفَرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ: ( (أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ؟ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ (أَوْ قَالَ: هَٰذَيْنِ) وَقْتٌ) )
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے نمازِ فجر کے بارے میں سوال کیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو اس وقت اقامت کہنے کا حکم دیا، جب فجر طلوع ہوئی، پھر دوسرے دن روشنی کی(اور پھر نماز ادا کی) اور فرمایا: نمازِ فجر کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان اس کا وقت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12143»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 271
حدیث نمبر: 1181
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ) )
سیدنا رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجر کو زیادہ کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 424، وابن ماجه: 672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17389»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه ابوداود: 424
حدیث نمبر: 1182
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17411»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17411
حدیث نمبر: 1183
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ أَوْ لِأَجْرِهَا) )
سیدنا رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17411»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17411
حدیث نمبر: 1184
عَنْ أَبِي زِيَادٍ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْكِنْدِيِّ عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَفْضَحَهُ الصُّبْحُ وَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَأَذَّنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ بَيْنَ أَذَانِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا ثُمَّ إِنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: ( (إِنِّي رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ) ) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: ( (لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا) )
سیدنا بلال ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ فجر کی اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، لیکن سیدہ عائشہ ؓ نے اُن کو اس طرح مصروف کر دیا کہ ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، یہاں تک کہ صبح کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور واضح طور پر صبح ہو گئی، پس سیدنا بلال ؓکھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی خبر دی اور بار بار اطلاع کرتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نہ نکلے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا بلال ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے اُن سے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس طرح انُ کو مصروف کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید تاخیر کر دی، آپ نے فرمایا: میں فجر کی دو رکعتیں پڑھنے لگ گیا تھا۔ انھوں نے کہا: آپ نے تو واضح طور پر صبح کر دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس سے زیادہ صبح ہو جاتی تو میں نے ان دو رکعتوں کو تو پڑھنا تھا اور اِن کو حسین و جمیل بنا کر ادا کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات الا انه منقطع بين عبيد الله بن زيادة وبلال بن رباح۔ أخرجه ابوداود: 1257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24407»
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات الا انه منقطع بين عبيد الله بن زيادة وبلال بن رباح۔ أخرجه ابوداود: 1257