الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. فَصْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ بِمَكَّةَ
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 1221
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَخَذَ بِحَلْقَةِ بَابِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ) )
سیدنا ابو ذر ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے کعبہ کے دروازے کے کڑے کو پکڑا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، مگر مکہ میں، مگر مکہ میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: الا بمكة، الا بمكة وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمل، وبينه وبين قيس فيه حميد مولي عفراء، وھو ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 851، والبيھقي: 2/ 461، وابن خزيمة: 2748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21794»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع کی درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا جبیر بن مطعم ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَابَنِیْ عَبْدِ مُنَافٍ، لَا تَمْنَعُنَّ اَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ اَوْ صَلّٰی اَیَّ سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ اَوْ نَھَارٍ۔)) … اے بنو عبد ِ مناف! تم نے کسی کو نہیں روکنا، جو کوئی دن اور رات کی گھڑی میں جب چاہے، اس گھر کا طواف کرے یا اس میں نماز پڑھے۔ (ابوداود: ۱۸۹۴، ابن ماجہ: ۱۲۵۴، ترمذی: ۸۶۸، نسائی: ۱/ ۲۸۴)
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: الا بمكة