🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. باب لاَ يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْفَتْحِ:
باب: فتح (مکہ) کے بعد (قیامت تک) کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1782 ترقیم شاملہ: -- 4627
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "،
علی بن مسہر اور وکیع نے زکریا سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن مطیع نے اپنے باپ (مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ) سے خبر دی، انہوں نے کہا: جس دن مکہ فتح ہوا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہ کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4627]
عبداللہ بن مطیع اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: آج کے بعد قیامت تک کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4627]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1782
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1782 ترقیم شاملہ: -- 4628
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ كَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا.
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں زکریا نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا، کہا: اس دن قریش کے عاص (نافرمان) نام کے لوگوں میں سے، مطیع کے سوا، کوئی مسلمان نہیں ہوا۔ اس کا نام (تخفیف کے ساتھ عاص اور تخفیف کے بغیر) عاصی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام (بدل کر) مطیع رکھ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4628]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے زکریا کی مذکورہ بالا سند ہی سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے، قریش کے عاصی نامی لوگوں میں سے، مطیع کے سوا کوئی مسلمان نہ تھا، اس کا نام بھی العاصی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام مطیع رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 4628]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1782
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں