الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي مُدَّةِ التَّلْبِيَةِ وَفِعْلِهَا عَقِبَ الصَّلَاةِ
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
حدیث نمبر: 4237
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَّى دُبُرَ الصَّلَاةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4237]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1770، والترمذي: 819، والنسائي: 5/ 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2579»
وضاحت: فوائد: … اس سے مراد وہ تلبیہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدائے احرام میں کہا تھا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1770
حدیث نمبر: 4238
عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، فَكَانَ يُلَبِّي، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا آدَمَ، لَهُ ضَفْرَانِ عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ، قَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ! إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ يَوْمَ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ يَوْمُ تَكْبِيرٍ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: أَجَهَلُ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ إِلَّا أَنْ يُخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ
۔ ابن سنجرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کو گئے، وہ تلبیہ پکارتے جارہے تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا رنگ گندمی تھا،ان کے سر پر دو لٹیں تھیں اور ان کا حلیہ دیہاتیوں کا سا تھا، ان کے تلبیہ کی آواز سن کر عام سادہ سے لوگوں نے شور مچا دیا اور کہنے لگے: ارے دیہاتی! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے، تکبیرات کا دن ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور کہا: لوگوں کو سرے سے علم نہیں تھا یایہ بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم، جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ ترک نہیں کیا تھا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ بھی کہہ لیتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1683، ومسلم: 1283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3961»
وضاحت: فوائد: … حج کا تلبیہ (۱۰) ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک جاری رکھا جائے گا، البتہ بیچ میں دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں۔
یہ تلبیہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے آخری کنکری کے ساتھ موقوف ہوگا۔ (ابن خزیمہ)
یہ تلبیہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے آخری کنکری کے ساتھ موقوف ہوگا۔ (ابن خزیمہ)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1683
حدیث نمبر: 4239
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُلَبِّي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات کو جا رہے تھے، تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور کوئی تلبیہ پکار رہا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4239]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4733»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1284
حدیث نمبر: 4240
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَلَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4240]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1543، 1686، ومسلم: 1286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1860»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1543
حدیث نمبر: 4241
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: وَقَفْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يَقُولُ لَبَّيْكَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ! مَا هَذَا الْإِهْلَالُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهِلُّ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ وَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهَا
۔ عکرمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ وقوف کیا اور میں نے سنا کہ وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے، میں نے عرض کیا: ابو عبد اللہ! یہ تلبیہ کیسا؟ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سنا تھا کہ وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے، نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ العقبہ تک تلبیہ پکارا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4241]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابويعلي: 321، والبيھقي: 5/ 138، والبزار: 500، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1334»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابويعلي: 321
حدیث نمبر: 4242
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعْهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ دوسری سند: عکرمہ کہتے ہیں: میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں مزدلفہ سے آ رہا تھا، میں نے سنا کہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک وہ تلبیہ پکارتے رہے، جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں اپنے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں مزدلفہ سے چلاتھا، وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے، اورانہوں نے یہ بتلایا تھا کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ سے چلا تھا تو یہ دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4242]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 915»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 915
حدیث نمبر: 4243
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَّى يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4243]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1670،و مسلم: 1281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1806»
وضاحت: فوائد: … دوران حج تلبیہ کہنے کی مدت ابتدائے احرام سے لے کر (۱۰) ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک ہے، جبکہ عمرہ کے موقع پر اس کی مدت ابتدائے احرام سے طوافِ قدوم شروع کرنے تک ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1670