🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ مَكَّةَ
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4322
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ قَالَ: ( (اَللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَايَانَا بِهَا، حَتَّى تُخْرِجَنَا مِنْهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَایَانَا بِہَا، حَتّٰی تُخْرِجَنَا مِنْہَا۔ (یااللہ! ہماری موتیں مکہ میں نہ بنا، یہاں تک کہ تو ہم کو یہاں سے باہر لے جا۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ/حدیث: 4322]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 9/ 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4778»
وضاحت: فوائد: … یہ دعا صرف وہ لوگ کر سکتے تھے، جنھوں نے اللہ تعالی کے لیے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات سمیت مہاجرین کے گروہ کو مراد لے رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییا کسی مہاجر کی وفات مکہ میں ہو، تاکہ ہجرت کا شرف باقی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بنا پر سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر اظہارِ غم کرتے تھے کہ مکہ مکرمہ میں انتقال کر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ اَمْضِ لِاَصْحَابِیْ ھِجْرَتَھُمْ، وَلَا تَرُدَّھُمْ عَلٰی اَعْقَابِھِمْ، لٰکِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔)) … ”اے اللہ!میرے صحابہ کے لیے ان کی ہجرت کو نافذ کر دے اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دے، لیکن بے چارہ سعد بن خولہ۔“ (صحیح بخاری: ۳۹۳۶، مسلم: ۱۶۲۸)
خانہ کعبہ کو دیکھ کر جو مخصوص دعائیں پڑھی جاتی ہیں، ان کی سندیں ضعیف ہیں، مثلا: مکحول کہتے ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے اور بیت اللہ کو دیکھتے تو ہاتھ اٹھاتے اور اللہ اکبر کہتے اور پھریہ دعا پڑھتے: ((اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ، اَللّٰھُمَّ زِدْ ھٰذَا الْبَیْتَ تَشْرِیْفًا وَ تَعْظِیْمًا وَمَھَابَۃً وَزِدْ مَنْ حَجَّہٗاَوِاعْتَمَرَہٗتَکْرِیْمًا وَ تَشْرِیْفًا وَتَعْظِیْمًا وَبِرًّا)) (سنن بیقہی، اس کی سند مرسل معضل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے)سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بیت اللہ کی طرف دیکھا تو فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ زِدْ بَیْتَکَ ھٰذَا تَشْرِیْفًا وَتَکْرِیْمًا وَ بِرًّا وَمَھَابَۃً۔)) (معجم کبیر، معجم اوسط، اس میں عاصم بن سلیمان کوزی راوی متروک ہے۔)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ الدُّعَائِ لِاِسْتِقْبَالِ الْبَیْتِ۔)) … ”بیت اللہ کے سامنے آتے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے۔“ (سنن سعید بن منصور، سنن بیہقی، اس میں عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابو لیلی ضعیف ہے)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا کیا آدمی بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھائے گا، انھوں نے کہا: جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو ہم اس طرح کرتے تھے۔ (جامع ترمذی: ۸۵۵، لیکنیہ حدیث بھی ضعیف ہے)
لوگوں کو چاہیے کہ وہ مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے شہر اور بستی میں داخل ہونے سے پہلے درج ذیل عام حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس میں مذکورہ دعا پڑھ لیں۔
سیدنا صہیب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی ایسی بستی دیکھتے، جس میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے تو اس کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتے:
((اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا اَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْاَرْضِیْنَ السَّبْعِ وَمَا اَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَا اَضْلَلْنَ وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا ذَرَیْنَ، اَسْأَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ اَھْلِھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا، وَشَرِّ اَھْلِھَا وَ شَرِّ مَا فِیْھَا)) …
(مستدرک حاکم: ۱/ ۶۱۴)
”اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن پر انھوں نے سایہ کیا ہوا ہے! اے ساتوں زمینوں کے رب اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے اٹھایا ہوا ہے! اے شیطانوں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے گمراہ کیا! اے ہواؤں کے ربّ اور ان چیزوں کے ربّ جن کو انھوں نے اڑایا! میں تجھ سے اس بستی کی خیر اور اس میں رہنے والوں کی خیر اور اس چیز کی خیر کا سوال کرتا ہوں جو اس بستی میں ہے اور تجھ سے اس بستی کے شرّ اور اس کے رہنے والوں کے شرّ اور اس چیز کے شرّ سے جو اس میں ہے، کی پناہ طلب کرتا ہوں۔“

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه البيھقي: 9/ 19
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں