الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْكَرِبِ وَالْهَمْ وَالْغَمِّ وَمَا يَقُولُ مَنْ غَلَبَهُ أَمْرَ
پریشانی، رنج اور غم کے وقت کے اذکار کا اور اس آدمی کی دعا کا بیان، جس کو¤کوئی معاملہ مغلوب کر دے
حدیث نمبر: 5573
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهَا عِنْدَ الْكَرْبِ اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے رنج و غم کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی: اللّٰہُ رَبِّی لَا أُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا (اللہ میرا ربّ ہے، میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5573]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 1525، وابن ماجه: 3882، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27622»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 5574
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے چین اور غم زدہ آدمی کی دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو، فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، أَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، (اے اللہ! میں صرف تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس تو میری ذات کو پلک بھرکے لیے میرے سپرد نہ کر اور میرا سارا معاملہ سنوار دے، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5574]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 5090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20702»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5575
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَفِي لَفْظٍ لَقَّنَنِي عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ بِي كَرْبٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ شِدَّةٌ أَنْ أَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ وَفِي لَفْظٍ الْحَكِيمُ بَدَلَ الْحَلِيمِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بے چینی اور سختی کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ،سُبْحَانَ اللّٰہِ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بردبار اور کریم ہے، اللہ پاک ہے، اللہ تعالیٰ بابرکت ہے، جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے، اور ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا ربّ ہے)۔ ایک روایت میں الْحَلِیْم کے بجائے الْحَکِیْم کے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5575]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 472، والحاكم: 1/ 508، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 701»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5576
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا نَتَعَلَّمُهَا فَقَالَ بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کسی کو کوئی فکر و غم اور رنج و ملال لاحق ہو اور وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ … … وَذَہَابَ ہَمِّی، (اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل والا ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس خاص نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھلایا ہے یا علم الغیب میں اسے اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی ہے کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میرے فکر کو لے جانے والا بنا دے)۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے فکر و غم اور رنج و ملال کو دور کرکے اس کے بدلے وسعت اور کشادگی عطا کرے گا۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ہر سننے والے کو یاد کر لینے چاہئیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5576]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 253، وابويعلي: 5297، والطبراني في الكبير: 10352، والحاكم: 1/ 509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3712»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کا دل کی بہار ہونا، اس سے مراد یہ ہے کہ دل کو قرآن مجید سے راحت ملے، وہ اس کی طرف مائل ہو، اس کی تلاوت کی رغبت رکھے اور اس میں غور و فکر کر کے سبق حاصل کرے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 5577
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ زَوَّجَ ابْنَتَهُ مِنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ فَقَالَ لَهَا إِذَا دَخَلَ بِكِ فَقُولِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ هَذَا قَالَ حَمَّادٌ ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ فَلَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا
۔ عبد اللہ بن جعفر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب انھوںنے حجاج بن یوسف سے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اپنی بیٹی سے کہا: جب وہ تیرے پاس آئے تو تو نے یہ دعا پڑھنی ہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بردبار اور کریم ہے، اللہ پاک ہے، جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے، اور ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا ربّ ہے)۔ ان کا خیال تھا کہ جب کوئی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پریشان کر دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے، حماد راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حجاج بن یوسف اس خاتون تک نہ پہنچ پایا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5577]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، وانظر الحديث رقم: (5575)، أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة: 646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1762»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5578
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ مِنْ شَيْءٍ نَقُولُهُ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ قَالَ نَعَمْ اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا قَالَ فَضَرَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وُجُوهَ أَعْدَائِهِ بِالرِّيحِ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّيحِ
۔ سیدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوۂ والے دن کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ذکر ہے، کلیجے منہ کو آ گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل ہے، کہو: اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا (اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال اور ہماری گھبراہٹوں کو امن دے)۔ پس اللہ تعالیٰ دشمنوں پر ہوا ایسی ہوا چلائی کہ اس ہوا ذریعے ان کو شکست دے دی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5578]
تخریج الحدیث: «الدعاء صحيح بالشواھد دون القصة، قاله الالباني، أخرجه البزار: 3119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11009»
الحكم على الحديث:
الدعاء صحيح بالشواھد دون القصة
حدیث نمبر: 5579
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقَالَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ لَمَّا أَدْبَرَ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ فَقَالَ مَا قُلْتَ قَالَ قُلْتُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِالْكَيْسِ فَإِذَا غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ ہوا، جب وہ جانے لگا تو اس نے کہا: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ(اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے کیا ذکر کیا ہے؟ اس نے کہا: جی میں نے یہ کلمات ادا کیے ہیں: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ سستی پر ملامت کرتا ہے، سب سے پہلے تجھے عقلمندی سے کام لینا چاہیے، پھر اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو تو کہے: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5579]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد، وجھالة سيف، أخرجه ابوداود: 3627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24483»
وضاحت: فوائد: … مفہوم یہ ہے کہ انسان کو اپنے دنیوی و اخروی جائز مقاصد کی تکمیل کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے اور ممکنہ اسباب استعمال کرنے چاہئیں، پھر بھی اگر وہ مغلوب ہو جائے تو اس کو اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ سمجھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد