الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَاب مَا جَاءَ فِي أَوْقَاتٍ يُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 5618
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَلِذَلِكَ كَانُوا يُفَضِّلُونَ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ أَوَّلِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور کہتا ہے: کون مجھے پکارے گا کہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون مجھ سے سوال کرے گا کہ میں اس کو عطا کروں، کون مجھ سے بخشش طلب کرے گا کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ ابتدائے رات کی بجائے آخر ِ رات کی نماز کو ترجیح دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5618]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 659، ومسلم: 758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7582»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 659
حدیث نمبر: 5619
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَفِيهِ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي فَأَرْزُقَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَكْشِفُ الضُّرَّ فَأَكْشِفَهُ عَنْهُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: کون مجھ سے رزق طلب کرے گا کہ میں اس کو رزق عطا کروں، کون مجھ سے تکلیف کے دور کرنے کا مطالبہ کرے گا کہ میں اس کی تکلیف کو دور کر دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ ‘ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5619]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7500»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7500
حدیث نمبر: 5620
عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ
۔ سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نصف یا دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے: میں اپنے بندوں کے متعلق اپنے علاوہ کسی سے سوال نہیں کرتا، (کیونکہ مجھے اپنے بندوں کے مکمل حالات معلوم ہیں) کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے، تاکہ میں اس کو بخش دوں، کون ہے جو مجھے پکارے، تاکہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے، تاکہ میں اس کو عطاء کروں، یہاں تک کہ فجر پھوٹ پڑتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5620]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 1291، والدارمي: 1/ 348، والبزار: 3543، والطبراني في الكبير: 4559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16316»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 5621
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ
۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اس کو عطاء کروں، کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5621]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الدارمي: 1/ 347، والنسائي في الكبري: 10321، والبزار: 3153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16866»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات بیان کی گئی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفات ہیں، جیسے اس کی شان کو لائق ہیں اور یہ مخلوق کی صفات کی طرح نہیں ہیں۔ یہ کیسا وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر آ کر اپنے بندوں کو آواز دیتے رہیں، لیکن آگے سے لبیک کہنے والا کوئی نہ ہو، جتنا یہ وقت عظیم اور قیمتی تھا، اتنا ہی لوگوں نے غفلت اور سستی کا مظاہرہ کیاہے، عصر حاضر میں تو بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ بھی تہجد جیسے شرف سے محروم ہو گئے ہیں، باقیوں کو تو اس کا شعور ہی نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم