🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. بَابُ ادْعِيَةٍ جَامِعَةٍ كَانَ يُعَلِّمُهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ
ان جامع دعاؤں کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض صحابہ کو جن کی تعلیم دیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5661
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ وَتَدْعُو بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ وَإِيمَانًا فِي خُلُقٍ حَسَنٍ وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ يَعْنِي وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سلمان خیر رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت فرمائی: بیشک اللہ کا نبی تجھے چند کلمات عطا کرنا چاہتا ہے، تو ان کے ذریعے رحمن سے سوال کرے گا، ان کے ذریعے اس کی طرف رغبت کا اظہار کرے گا اور رات اور دن کو ان کا ورد کرے گا، کہہ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ صِحَّۃَ إِیمَانٍ وَإِیمَانًا فِی خُلُقٍ حَسَنٍ،وَنَجَاحًا یَتْبَعُہُ فَلَاحٌ یَعْنِی وَرَحْمَۃً مِنْکَ وَعَافِیَۃً وَمَغْفِرَۃً مِنْکَ وَرِضْوَانًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے کمالِ ایمان کا، حسن اخلاق والے ایمان کا اور کامیابی والا مقصد پورا ہونے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے رحمت، عافیت، بخشش اور رضامندی کا سوال کرتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5661]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن الوليد فيه ضعف، أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة: 21، 569، والحاكم: 1/ 523، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8255»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5662
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا عَمُّكَ كَبِرَتْ سِنِّي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ يَا عَبَّاسُ أَنْتَ عَمِّي وَلَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَلَكِنْ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ عِنْدَ قَرْنِ الْحَوْلِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے باپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کا چچا ہوں، اب میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، لہذا آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! تم میرے چچے تو ہو، لیکن میں تم کو اللہ تعالیٰ سے کفایت نہیں کر سکتا، البتہ تم اپنے ربّ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کیا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات دوہرائی، پھر جب وہ سال کے آخر میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی بات کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5662]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1766»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا تھے، لیکن آخرت کے معاملے میں اتنا مقدس رشتہ بھی کسی کام نہیں آئے گا، وہاں معاملہ ذاتی نیکیوں اور برائیوں کا ہو گا۔ معافی سے مراد گناہوں کا معاف ہو جانا ہے اور عافیت سے مراد بیماریوں، آزمائشوں اور ضعف ِ ایمان سے سلامتی ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5663
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْقَيْظِ عَامَ الْأَوَّلِ سَلُوا اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ وَالْيَقِينَ فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى
۔ سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو منبرِ رسول پر یہ کہتے ہوئے سنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا تو رونا شروع کر دیا، پھر یہ کیفیت دور ہونے کے بعد انھوں نے کہا: میں نے پچھلے سال گرمیوں کے اس شدید موسم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے معافی کا، عافیت کا اور ایمانِ کامل کا سوال کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5663]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5664
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَمْ يُعْطَوْا فِي الدُّنْيَا خَيْرًا مِنَ الْيَقِينِ وَالْمُعَافَاةِ فَسَلُوهُمَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! لوگوں کو دنیا میں ایمانِ کامل اور عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیںکی گئی، لہذا تم اللہ تعالیٰ سے ان دونوں چیزوں کا سوال کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5664]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 38 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 38»
وضاحت: فوائد: … اس وقت دنیا والے جن جن چیزوں کو بہتر اور خیر والا سمجھ چکے ہیں اور ان کے لیے کوشاں بھی ہیں، وہ سب کچھ فنا ہونے والا اور ہاتھ سے نکل جانے والا ہے، اگر بقا ہے تو وہ ایمانِ کامل اور عملِ صالح کو ہے۔ بلاشک و شبہ دنیا کے لیے محنت کرنی چاہیے، لیکن دین کے تقاضوں سے غفلت برتنا، یہ دکھ بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی ہر متوقع اور غیر متوقع نعمت کے بغیر گزارا کیا جا سکتاہے، لیکن اگر گزارا نہیں تو وہ کامل ایمان اور نیک عمل کے بغیر نہیں ہے، کیونکہ آخرت کا انحصار اِن دو چیزوں پر ہے، اگر کوئی آخرت میںپھنس گیا تو دنیا کی نعمتیں کس کام آئیں گی۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5665
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهُمَا فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أُعْطِيتَهُمَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی دوسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی تیسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا، اگر یہ دونوں چیزیں تجھے دنیا میں عطا کر دی گئیں اور پھر آخرت میں بھی دے دی گئیں تو تو کامیاب ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5665]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3848، والترمذي: 3512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12316»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5666
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلِ اللَّهَ تَعَالَى الْهُدَى وَالسَّدَادَ وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور راست روی کا سوال کر، اور ہدایت سے تیری مراد یہ ہو کہ سیدھے راستے کی طرف تیری رہنمائی کر دی جائے اور راست روی سے مراد یہ ہو کہ تیر کی طرح سیدھا کر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5666]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 664»
وضاحت: فوائد: … سَدَاد کے مختلف معانی ہیں، مثلا: استقامت، اعتدال، راست روی، قول و فعل کی درستگی، صداقت، حقانیت۔
جیسے تیر کو سیدھا کرنے میں بڑی توجہ دی جاتی ہے اور محنت بھی کی جاتی ہے، اسی طرح انسان کو اپنی زندگی کے تمام اقوال و افعال کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کسی معاملہ میں لا پرواہی نہیں برتنی چاہیے۔ جب آدمی ہدایت اور راست روی کا سوال کر رہا ہو تو اس وقت ان کے بھرپور معانی اس کے ذہن میںہونے چاہئیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2078
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5667
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ دُعَاءً وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ بِهِ أَهْلَهُ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ قُلْ كُلَّ يَوْمٍ حِينَ تُصْبِحُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ اللَّهُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلْفٍ فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْهِ مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَمَاتِ وَلَذَّةَ نَظَرٍ إِلَى وَجْهِكَ وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَأُشْهِدُكَ وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَكَ الْمُلْكُ وَلَكَ الْحَمْدُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ وَلِقَاءَكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةَ حَقٌّ وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ وَعَوْرَةٍ وَذَنْبٍ وَخَطِيئَةٍ وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک دعا کی تعلیم دی اور ان کو حکم دیا کہ وہ اس دعا کے معاملے میں ہر روز اپنے گھر والوں کا بھی خیال رکھے، (یعنی وہ سارے افراد روزانہ یہ دعا پڑھیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر روز صبح کے وقت کہو: میں (تیری اطاعت کے لیے) حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، اور میں حاضر ہوں، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، تیری طرف سے ہے، تیرے ساتھ ہے اور تیری طرف ہے، اے اللہ! میں نے جو بات کہی، میں نے جونذر مانی اور میں نے جو قسم اٹھائی، پس تیری مشیت اس کے سامنے ہے، جو تو چاہے گا، وہ ہو گا اور جو تو نہیں چاہے گا، وہ نہیں ہو گی، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر تیرے ساتھ، بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اے اللہ! میں نے رحمت کی جو دعا کی ہے، وہ اس کے لیے ہے، جس پر تو نے رحمت بھیجی ہے اور میں نے لعنت کی جو بد دعا کی ہے، وہ اس پر ہو، جس پر تو نے لعنت کی ہے، بیشک تو ہی میرا دوست ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، تو مجھے مسلمان فوت کرنا اور نیکوکار لوگوں کے ساتھ مجھے ملا دینا۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فیصلہ کے بعد رضامند ہونے کا، موت کے بعد راحت کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، لیکن اس میں نقصان پہنچانے والی کوئی تکلیف اور گمراہ کرنے والا کوئی فتنہ ہو۔ اے اللہ! میں اس چیز سے تیری پناہ میں آتا ہو کہ میں ظلم کروں، یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں زیادتی کروں، یا مجھ پر زیادتی کی جائے، یا میں اعمال کو ضائع کرنے والا گناہ کروں، یا میں نہ بخش دیے جانے والے گناہ کا ارتکاب کروں۔ اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! جلال و اکرام والے! بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ بناتا ہے، جبکہ تو ہی بطورِ گواہ کافی ہے، کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت تیرے لیے ہے، ساری تعریف تیرے واسطے ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے، اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، قیامت بلاشک و شبہ آنے والی ہے اور تو قبروں والوں کو اٹھانے والا ہے۔ اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہے کہ اگر تو نے مجھ کو میرے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو نے مجھے ضائع ہونے، عیب، گناہ اور خطا کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ مجھے کوئی بھروسہ نہیں ہے، سوائے تیری رحمت کے، پس میرے لیے میرے سارے گناہوں کو بخش دے، توہی گناہوں کو بخش دینے والا ہے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5667]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ضمرة بن حبيب لم يسمع من ابي الدردائ، وابو بكر بن ابي مريم ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير: 4803، والحاكم: 1/ 516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21666 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22006»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں درج ذیل دعا کا بیان ہے:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5668
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ إِلَيْكَ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبِي وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبِّكَ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نماز پڑھا رہا تھا کہ نماز کے بیچ میں ایک آدمی کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍٔ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِیْ، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّیْ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لیے ہے، سارا بادشاہت تیرے لے ہے، ساری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، ساری معاملہ تیری طرف لوٹایا جائے گا، وہ علانیہ ہو یا مخفی، تو اس لائق ہے کہ تیری تعریف کی جائے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میں جو گناہ کر چکا ہوں، تو ان سب کو بخش دے اور بقیہ عمر میں میری حفاظت فرما اور مجھے ایسا مبارک اور مقبول عمل کرنے کی توفیق دے کہ جس کے ذریعے تو مجھ سے راضی ہو جائے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعا اور آواز کے بارے میں فرمایا: یہ فرشتہ تھا، جو تجھے تیرے ربّ کی حمد بیان کرنے کی تعلیم دینے آیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5668]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن حذيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23747»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن حذيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5669
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَنَزَ النَّاسُ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ فَاكْنِزُوا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَأَسْأَلُكَ حُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرنا شروع کریں گے تو تم ان کلمات کو جمع کرنا شروع کر دینا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ، وَالْعَزِیمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا، وَأَسْأَلُکَ لِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی اور استقامت کا اور رشد و ہدایت پر مضبوطی سے قائم رہنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر ادا کرنے کا اور تیری عبادت کے حسن کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سالم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جو تو جانتا ہے اور ہر اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، اور تجھ سے ہر اس گناہ کی بخشش چاہتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، بیشک تو غیبوں کو جاننے والا ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5669]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17243»

الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5670
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يُكَلِّمَهُ وَعَائِشَةُ تُصَلِّي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالْكَوَامِلِ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ سَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا قُولِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهُ رَشَدًا وَفِي لَفْظٍ وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ تَقْضِيهِ لِي خَيْرًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات کرنا چاہی، جبکہ سیدہ خود نماز پڑھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سے فرمایا: تو کوامل کا لازمی طور پر اہتمام کر۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی کوئی بات کی، جب وہ فارغ ہوئیں اور اس ارشاد کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کر: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ مَا سَأَلَکَ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَأَسْتَعِیذُکَ مِمَّا اسْتَعَاذَکَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَأَسْأَلُکَ مَا قَضَیْتَ لِی مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَہُ رَشَدًا۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَاَسْأَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ کُلَّ قَضَائٍ تَقْضِیْہٗ لِیْ خَیْرًا۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتا ہوں، وہ جلد آنے والی ہو یا بدیر، مجھے اس کا علم ہویا نہ ہو، اور میں تجھ سے ہر قسم کے شرّ سے پناہ مانگتا ہوں، وہ جلد آنے والا ہو یا دیر سے، مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو، میں تجھ سے جنت کا اور اس کے قریب کر دینے والے قول یا عمل کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے آگ سے اور اس کے قریب کر دینے والے قول اور عمل سے پناہ طلب کرتا ہوں، بلکہ میں تجھ سے ہر اس خیر کاسوال کرتا ہوں، جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اور میں ہر اس چیز سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ طلب کی، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بارے میں تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس کے انجام میں خیر بنا دے۔ ایک روایت کا آخری جملہ یوں ہے: میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بارے میں تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس میں خیر رکھ دے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5670]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25650»
وضاحت: فوائد: … کَوَامَل، اور ایک روایت میں ہے: عَلَیْکِ بِالْجَوَامِعِ الْکَوَامِلِ۔ اس سے مراد وہ دعائیں ہیں، جن کے الفاظ مختصر ہوں، لیکن وہ بہت زیادہ معانی پر مشتمل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنتی دعاؤں کی تعلیم دی ہے، وہ اپنے باب میںجامع و مانع ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں