الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ اسْتِفْسَارِ الْمُقِرِ بِالرِّنَا وَاعْتِبَارِ تَصْرِيحِهِ بِمَا لَاتَرَدُّدَ فِيهِ
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
حدیث نمبر: 6707
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ قَالَ لَا قَالَ فَنِكْتَهَا قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ماعز بن مالک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے دخول کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو رجم کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6707]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6824، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2129»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6708
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ زَنَيْتُ لَعَلَّكَ غَمَزْتَ أَوْ قَبَّلْتَ أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا قَالَ كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِي مَا الزِّنَا
۔ (دوسری سند) جب ماعز نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تونے آنکھ سے اشارہ کیا ہو (یا مطلب یہ ہے کہ تونے ہاتھ کے ساتھ چھیر چھار کی ہو) یا بوسہ لیا ہو یا دیکھا ہو؟ راوی کہتا ہے: ایسے لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر تھا کہ ممکن ہے کہ یہ شخص زنا کی تعریف سے ناآشنا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6708]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3000»
وضاحت: فوائد: … راوی نے ان سوالات کی وجہ بیان کر دی ہے، حدیث نمبر (۶۶۵۹) اور اس کے بعد والی احادیث میں زنا کی مختلف قسموں کا ذکر گزر چکا ہے، مثلا آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور زبان کا زنا، اس لیے ممکن ہے کہ کوئی آدمی ان کو وہ زنا سمجھ لے، جس کی وجہ سے حدّ لگتی ہے، سو جرم کا اقرار کرنے والے کی کیفیت کو دیکھ کر مختلف انداز میں شک و شبہ کو دور کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح