الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب فِي أَنَّ السَّيْدَ يُقِيمُ الْحَدَّ عَلَى رَفِيقِهِ
آقا کا اپنے غلام پر حد نافذ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6742
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا) فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا، فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ أَوْ ضَفِيرٍ مِنْ شَعْرٍ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اوراس کا زنا ظاہر ہو جائے تو وہ اپنی لونڈی کو حد لگائے اور اسے عار نہ دلائے،پھر اگر وہ اسی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کو کوڑے لگائے، لیکن عار نہ دلائے، اگر وہ پھر زنا کرے تو اس کو حدّ لگائے اور اسے عار نہ دلائے، اگر وہ چوتھی مرتبہ زنا کی مرتکب ہو جائے تووہ اس لونڈی کو فروخت کر دے، اگرچہ بالوں کی رسی یا چند بٹے ہوئے بالوں کے عوض فروخت کرنا پڑے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6742]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8873»
وضاحت: فوائد: … ”فَلْیَجْلِدْھَا“ کا معنییہ نہیں کہ مالک اپنی لونڈی کو تعزیری کوڑے لگائے، بلکہ ان الفاظ سے مراد حد والے پچاس کوڑے ہیں، کیونکہ مسند احمد کی حدیث نمبر(۷۳۹۵) کے الفاظ یہ ہیں: ”فَلْیَجْلِدْھَا الْحَدَّ“ یعنی وہ اس کو حد لگائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6743
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمُ الْحُدُودَ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ( (أَحْسَنْتَ) )
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطاب کیا اور کہا: لوگو! اپنے لونڈیوں اور غلاموں پر حدیں قائم کیا کرو، وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ ابھی ابھی اس کا نفاس کا خون شروع ہوا تھا، پس میں ڈر گیا کہ اگر اس کو کوڑے لگائے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مر جائے، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اچھا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6743]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1341»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زنا کی حد کے معاملے میں غلام اور لونڈی کے شادی شدہ ہونے اور نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ دونوں صورتوں میںپچاس پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔
بیماری وغیرہ کی صورت میں کوڑوں کی سزا کو مؤخر کیا جا سکتا ہے، تاکہ مجرم کا کوئی اور نقصان نہ ہو جائے، حدیث نمبر (۶۷۲۱) کی شرح میںیہی مسئلہ بیان کیا گیا تھا۔
بیماری وغیرہ کی صورت میں کوڑوں کی سزا کو مؤخر کیا جا سکتا ہے، تاکہ مجرم کا کوئی اور نقصان نہ ہو جائے، حدیث نمبر (۶۷۲۱) کی شرح میںیہی مسئلہ بیان کیا گیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6744
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشَبْلٍ قَالُوا: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ؟ قَالَ: ( (اجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد اور سیدنا شبل رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس لونڈی کے متعلق دریافت کیا گیا جو شادی سے پہلے زنا کرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حد لگاؤ،اگر وہ دوبارہ برائی کرے تو پھر حد لگاؤ، اگر تیسری باری جرم کرے تو پھر حد لگاؤ اور اگر وہ اس کے بعد پھر زنا کرے تو اس کو بیچ دو، اگرچہ ایک رسی کے عوض ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6744]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2233، 2555، ومسلم: 1704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)17043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17169»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6745
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا، وَإِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، وَإِذَا زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ) ) وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو،اگر وہ دوسری بار زنا کرے تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ اور اگر وہ پھر اس جرم میں مبتلا ہو جائے تو اسے کوڑے لگاؤ اور فروخت کردو، اگرچہ ایک رسی کے عوض فروخت کرنا پڑے۔ ضَفِیْر کا معنی رسی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6745]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2566، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24865»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6746
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ شِبْلَ بْنَ حَامِدٍ الْمُزَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ الْأَوْسِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَلِيدَةِ: ( (إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ (وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ) فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مالک اوسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لونڈی کے بارے میں فرمایا: اگروہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے کوڑے لگاؤ، اگر وہ تیسری بار زنا کرے تو پھر اسے حدّ لگاؤ، اگر وہ اس کے بعد بھی زنا کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ ایک رسی کے عوض بیچنا پڑے۔ بیچنے کی بات تیسری یا چوتھی مرتبہ کی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6746]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19226»
وضاحت: فوائد: … تین چار بار حد لگنے کے باوجود برائی سے باز نہ رہنے کا مطلب یہ ہوا کہ لونڈی میں شرّ غالب آ چکا ہے اور وہ خیر و بھلائی سے دور ہو گئی ہے، لہذا اس کو فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح