الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب صفة المرأة التي تُستحب خطبتها صِفَةِ الْمَرْأَةِ
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 6844
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیاساری کی ساری متاع ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6844]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6567»
وضاحت: فوائد: … ”متاع“ اس چیز کو کہتے ہیں، جس سے تھوڑا سا فائدہ اٹھایا جائے اور وہ جلد ہی ختم ہو جائے، دنیا اور اس کی ہر چیز متاع ہے، آخرت کے مقابلے میں اس کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور وہ بھی جلد زائل ہو جانے والا ہے۔
نیک خاتون دنیا کا سب سے بہترین سرمایہ ہے، کیونکہ وہ خاوند کو حرام سے بچاتی ہے اور اس کے دنیوی اور دینی امور کو سرانجام دینے پر اس کا تعاون کرتی ہے اور ہر وہ لذت جو آخرت کی لذتوں کے حصول کے لیے معاون ہو، وہ اللہ تعالی کی محبوب اور پسندیدہ چیز ہے۔
نیک خاتون دنیا کا سب سے بہترین سرمایہ ہے، کیونکہ وہ خاوند کو حرام سے بچاتی ہے اور اس کے دنیوی اور دینی امور کو سرانجام دینے پر اس کا تعاون کرتی ہے اور ہر وہ لذت جو آخرت کی لذتوں کے حصول کے لیے معاون ہو، وہ اللہ تعالی کی محبوب اور پسندیدہ چیز ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1467
حدیث نمبر: 6845
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَجَمَالِهَا وَحَسَبِهَا وَدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار وجوہات کی بنا پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے، مال، جمال، حسب اور دین، تو دین والی کے ساتھ کامیاب ہو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6845]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5090، ومسلم: 1466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9517»
وضاحت: فوائد: … اسلام میں اللہ کا خوف اور عمل صالح کی سب سے زیادہ اہمیت ہے، اللہ تعالی کے ہاں وہی زیادہ معزز ہے، جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے، اس لیے نیک اور دین دار خاتون کو ترجیح دینی چاہیے، اسی میں دین و دنیا کی خیر و بھلائی ہے۔
تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، تیری ماں تجھے گم پائے،تیرا ناک خاک آلود ہو جائے، تجھ پر افسوس ہے، تیری ماں مر جائے، عرب اس قسم کے جملوں کے اصل معانی مراد نہیں لیتے، جو کہ بد دعا پر مشتمل ہیں، بلکہ ان کا مقصود ان امور میں سے کوئی ایک ہوتا ہے: مدح کرنا، مذمت کرنا، انکار کرنا، رغبت دلانا، تعجب کرنا۔
تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، تیری ماں تجھے گم پائے،تیرا ناک خاک آلود ہو جائے، تجھ پر افسوس ہے، تیری ماں مر جائے، عرب اس قسم کے جملوں کے اصل معانی مراد نہیں لیتے، جو کہ بد دعا پر مشتمل ہیں، بلکہ ان کا مقصود ان امور میں سے کوئی ایک ہوتا ہے: مدح کرنا، مذمت کرنا، انکار کرنا، رغبت دلانا، تعجب کرنا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5090
حدیث نمبر: 6846
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى إِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثَةٍ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى مَالِهَا وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى جَمَالِهَا وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى دِينِهَا فَخُذْ ذَاتَ الدِّينِ وَالْخُلُقِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت سے تین خصلتوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، عورت سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ایک عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے اور ایک عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے تو دین اور اخلاق والی خاتون کو منتخب کر لے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6846]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 4/ 310، والبزار: 1403، وابويعلي: 1012، وابن حبان: 4037، والحاكم: 2/161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11787»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6847
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6847]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25706»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 6848
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ لِدِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین والی کو لازم پکڑ۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6848]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 1860، والنسائي: 6/ 65، أخرجه مختصرا الترمذي: 1086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14286»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 6849
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْكِحُوا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ فَإِنِّي أُبَاهِي بِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ بچے جنم دینی والی خواتین سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت کی وجہ سے فخرکروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6849]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6598»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6850
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے اور تبتّل سے سختی کے ساتھ منع کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیار کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت ِ تعداد کی وجہ سے دیگر انبیائے کرام پر فخر کروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6850]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 5095، والبزار: 1400، وابن حبان: 4028، والبيھقي: 7/ 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12640»
وضاحت: فوائد: … یہ کیسے پتہ چلے گا کہ فلاں خاتون زیادہ بچے جنم دینے والی ہے؟ خاندان کی شادی شدہ خواتین سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس خاندان کی عورتوں کی زیادہ اولاد ہوتی ہے اور یہ بھی ممکن ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کنواری خواتین ہوں، کیونکہ وہ بیوہ کے مقابلے میں زیادہ بچے جنم دینے والی ہوتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6851
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ قَالَ الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہے کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ فرمانبرداری کرے اور خاوند اس کے نفس اور اپنے مال کے بارے میں جس چیز کو ناپسند کرتا ہے، وہ اس کی مخالفت نہ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6851]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 6/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7415»
وضاحت: فوائد: … میاں بیوی کی موافقت کے بغیر معاشرہ پرسکون نہیں رہ سکتا اور اگر دونوں کی مساوی حیثیت ہو تو موافقت کا امکان بہت کم ہے، اس لیے بیوی کو خاوند کے تابع کر دیا گیا ہے، کیونکہ مرد بلکہ مذکر کی فضیلت فطرتاً اور عملاً مسلم ہے، لہذا بہترین بیوی وہ ہے جو اپنے خاوند کے تابع فرمان رہے تاکہ معاشرہ جنت نظیر بن سکے۔ جس معاشرے میں مرد و زن کی حیثیت مساوی ہے، وہاں معاشرتی بے سکونی اور ازدواجی ابتری عام ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 6852
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرُ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرُ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرُ رَحِمِهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت کی برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسانی سے ہوئی ہو، مہر آسان ہو اور جلدی حاملہ ہونے والی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6852]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1417، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3637، والبيھقي: 7/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24983»
وضاحت: فوائد: … موجودہ معاشرے کے رسم و رواج نے عورتوں سے یہ برکت چھین لی ہے، اب تو منگنی بھی اچھی خاصی تقریب میں طے کی جاتی ہے اور اس وقت سے لینے دینے کے وہ سلسلے شروع ہو جاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے عوام کا دم گھٹنے لگ گیا ہے، لیکن کیا کیا جائے، ظاہر پرستی کا غلبہ ہے، بناوٹی عزتوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے، معاشرے کی رفتار کے ساتھ چلنا ہے، منگنی کے بعد والی عیدوں پر تحائف کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے، دبی زبانوں کے ساتھ والدین شکوہ کر رہے ہیں، لیکن جب ان کو شرعی مسئلہ سمجھایا جاتا ہے تو کہتے ہیں: اب کیا کریں جی، فلاں ناراض ہوتا ہے، فلاں باتیں کرتے ہیں، بچہ مانتا نہیں ہے، ایک علاقے میںیہ رواج ہے کہ دولہا کی طرف سے شادی کے دن کا تعین کرنے کے لیے جتنے لوگ دلہن کے گھر آئیں گے، ان سب کو ایک ایک قیمتی سوٹ دیا جائے گا، اتفاق سے ایک غریب گھرانے کی بچی کا دن رکھنے کے لیےپچیس افراد آ گئے اور ان کو کرنڈی کے بہترین پچیس سوٹ دیئے، جبکہ عام دنوں میں گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور وہ سوٹ تیار کرنے کے لیے صرف قرض نہیں مانگا گیا، بلکہ بھیک بھی مانگی گئی اور دست ِ سوال بھی پھیلایا گیا۔
منگنی کی رسم کے بعد جہیز کی تیاری، مہندی اور ابٹن کی رسمیں، پھر سینکڑوں افراد پر مشتمل بارات، اس میں دودھ پلائی رسم، عام سطح پر پندرہ بیس بیس ہزار روپے دے کر دلہن کا بیوٹی پارلر میں میک اپ کرانا، حاضرین کا دلہن کو دیکھنے کا کرایہ دینا، پھر ولیمہ اور اس میں شرکت کرنے والے کا نیندرا اور ملبوسات کی صورت میں تحائف دینا، تقریب کے بعد تحائف کی چیکنگ اور گلے شکوے۔ ایتھے کوئی ہک مصیبت اے!!! اور تقریباً بیشتر گھرانوں میں شادی کے کچھ دنوں کے بعد ماحول میںکشیدگی کا آغاز ہو جاتا ہے، کہیں ساس بہو کا مسئلہ، کہیں بیٹے اور اس کے والدین کا مسئلہ، کہیں بھاوج اور دیور دیوارنیوں کا مسئلہ، کہیں گھر علیحدہ کرنے کا مطالبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لینے کے لیے اکیلے گئے تھے اور گھر والوں نے سیدہ کو فی الفور تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔
اللہ تعالی خیر کرے، اگر بیوی کو حمل نہ ٹھہرنے کا مسئلہ پیدا ہو جائے یا کچھ ماہ کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہویا ولادت کے وقت آپریشن وغیرہ کی ضرورت پڑ جائے تو اس سے خوشکن ماحول کم ہونے لگتا ہے، ذہنی اذیت میں اضافہ ہوتا ہے اور اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
منگنی کی رسم کے بعد جہیز کی تیاری، مہندی اور ابٹن کی رسمیں، پھر سینکڑوں افراد پر مشتمل بارات، اس میں دودھ پلائی رسم، عام سطح پر پندرہ بیس بیس ہزار روپے دے کر دلہن کا بیوٹی پارلر میں میک اپ کرانا، حاضرین کا دلہن کو دیکھنے کا کرایہ دینا، پھر ولیمہ اور اس میں شرکت کرنے والے کا نیندرا اور ملبوسات کی صورت میں تحائف دینا، تقریب کے بعد تحائف کی چیکنگ اور گلے شکوے۔ ایتھے کوئی ہک مصیبت اے!!! اور تقریباً بیشتر گھرانوں میں شادی کے کچھ دنوں کے بعد ماحول میںکشیدگی کا آغاز ہو جاتا ہے، کہیں ساس بہو کا مسئلہ، کہیں بیٹے اور اس کے والدین کا مسئلہ، کہیں بھاوج اور دیور دیوارنیوں کا مسئلہ، کہیں گھر علیحدہ کرنے کا مطالبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لینے کے لیے اکیلے گئے تھے اور گھر والوں نے سیدہ کو فی الفور تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔
اللہ تعالی خیر کرے، اگر بیوی کو حمل نہ ٹھہرنے کا مسئلہ پیدا ہو جائے یا کچھ ماہ کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہویا ولادت کے وقت آپریشن وغیرہ کی ضرورت پڑ جائے تو اس سے خوشکن ماحول کم ہونے لگتا ہے، ذہنی اذیت میں اضافہ ہوتا ہے اور اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 6853
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ أُمَّ سُلَيْمٍ تَنْظُرُ إِلَى جَارِيَةٍ فَقَالَ شُمِّي عَوَارِضَهَا وَانْظُرِي إِلَى عُرْقُوبِهَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو ایک لڑکی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا: اس لڑکی کے سائیڈوں والے دانت سونگھنا اور اس کی ایڑھی کے اوپر کا پٹھا دیکھنا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6853]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 166، والبيھقي: 7/87، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13457»
وضاحت: فوائد: … اس پٹھے سے موٹے اور پتلے دبلے جسم کا اندازہ کیا جا سکتاہے، اگر یہ پٹھا واضح نظر آ رہا ہو توباقی جسم پتلا ہوتا ہے اور اگر یہ واضح نہ ہو تو جسم موٹا ہوتا ہے۔
امام حاکم اور امام بیہقی کی روایات میںیہ تفصیل ہے: جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ان کے پاس گئیں تو انھوں نے کہا: اے ام فلاں! ہم آپ کو کھانا کھلائیں؟ انھوں نے کہا: لیکن میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گی، جب تک فلاں لڑکی کھانا پیش نہ کرے، پس وہ ایک کارنس کی طرف چڑھی، اُدھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کا پٹھا دیکھ لیا، پھر اس سے کہا: بیٹی! میری جوئیں نکالو، پس وہ جوئیں نکالنے لگ گئی اور وہ اس کے دانتوں کو سونگنے لگ گئی، پھر وہ واپس آئی اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تفصیل بتائی۔
امام حاکم اور امام بیہقی کی روایات میںیہ تفصیل ہے: جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ان کے پاس گئیں تو انھوں نے کہا: اے ام فلاں! ہم آپ کو کھانا کھلائیں؟ انھوں نے کہا: لیکن میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گی، جب تک فلاں لڑکی کھانا پیش نہ کرے، پس وہ ایک کارنس کی طرف چڑھی، اُدھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کا پٹھا دیکھ لیا، پھر اس سے کہا: بیٹی! میری جوئیں نکالو، پس وہ جوئیں نکالنے لگ گئی اور وہ اس کے دانتوں کو سونگنے لگ گئی، پھر وہ واپس آئی اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تفصیل بتائی۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن