الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ النَّهْيِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَمَا جَاءَ فِي التَّعْرِيْضِ بِالْخِطْبَةِ فِي الْعِدَّةِ
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6865
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَدَعَهَا الَّذِي خَطَبَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ أَوْ يَأْذَنَ لَهُ.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے، الّا یہ کہ پہلے منگنی کا پیغام بھیجنے والا اس خاتون کو چھوڑ دے یا دوسرے کو بھی اجازت دے دے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6865]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6036»
وضاحت: فوائد: … جب کسی خاتون کا ایک مرد کی طرف میلان ہو جائے اور وہ دونوں شادی کے لیے راضی ہوں، بس صرف نکاح باقی ہو، تو کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں کہ وہ زیادہ حق مہر کی پیش کش کر کے یا اپنے سرمائے یا حسن کا اظہار کر کے اس عورت کو اپنی طرف مائل کر لے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5142
حدیث نمبر: 6866
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ، وَلَا يَبِيعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ) ) .
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، اسی طرح کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، الّا یہ کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6866]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1414، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17461»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1414
حدیث نمبر: 6867
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلِتَنْكِحَ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا) ) .
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پرمنگنی کا پیغام نہ بھیجے، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے،کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ وہ اس کے پیالے کی چیز کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ بھی نکاح کر لے، بے شک اسے وہ مل کر رہے گا، جو اللہ تعالی نے اس کے لیے لکھا ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6867]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10613»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1408
حدیث نمبر: 6868
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِهِ.
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجےیا اس کے سودے پر سودا کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6868]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطيالسي: 912، والبزار: 1420، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 9898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20376»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6869
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ.
۔ سیدنا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزاروں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6869]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الدارمي: 2275، والطبراني: 24/ 935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27888»
وضاحت: فوائد: … یہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ابو عمرو بن حفص کی زوجیت میں تھیں۔ دو طلاقیں وہ پہلے دے چکے تھے۔ پھر اس نے تیسری آخری طلاق بھی دے دی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 6870
عَنْ سُفْيَانَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَحْلَلْتِ فَآذِنِينِي) ) . فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبُو الْجَهْمِ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ وَلَكِنْ أُسَامَةَ) ) . قَالَ: فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ تَقُولُ لَمْ تُرِدْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ) ) . فَتَزَوَّجَتْهُ فَاغْتَبَطَتْهُ.
۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی اور بتلایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، سیدنا ابو جہم اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے مجھے منگنی کے پیغامات بھیجے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاویہ تو فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، البتہ اسامہ، وہ ٹھیک ہے۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ نہیں، میں اس کو نہیں چاہتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تیرےلیے بہتر ہے۔ پس میں نے اسامہ سے شادی کر لی اور مجھ پر رشک کیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6870]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27867»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ”جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔“ یہ دراصل منگنی کی طرف اشارہ تھا، بعد میں پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ فاطمہ بنت قیس، اسامہ سے شادی کر لے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖمِنْخِطْبَۃِ النِّسَائِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ} … ”تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔“ (سورۂ بقرہ: ۲۳۵)
یہ بیوہیا تین طلاق والی عورت کی بابت کہا جا رہا ہے کہ ان کی عدت کے دوران ان کو اشارے کنایے سے پیغام دیا جا سکتا ہے، لیکنیہ منع ہے کہ عدت کے دوران ان سے خفیہ وعدہ لے لیا جائے یا عقدِ نکاح پختہ کر لیا جائے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی گئی ہو اسے عدت کے اندر پیغام نکاح نہیں دیا جاسکتا اور نہ کنایۃً اس سے بات ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کا خاوند رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو اس کے ساتھ نکاح کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖمِنْخِطْبَۃِ النِّسَائِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ} … ”تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔“ (سورۂ بقرہ: ۲۳۵)
یہ بیوہیا تین طلاق والی عورت کی بابت کہا جا رہا ہے کہ ان کی عدت کے دوران ان کو اشارے کنایے سے پیغام دیا جا سکتا ہے، لیکنیہ منع ہے کہ عدت کے دوران ان سے خفیہ وعدہ لے لیا جائے یا عقدِ نکاح پختہ کر لیا جائے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی گئی ہو اسے عدت کے اندر پیغام نکاح نہیں دیا جاسکتا اور نہ کنایۃً اس سے بات ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کا خاوند رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو اس کے ساتھ نکاح کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1480