الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ الشَّرُوطِ فِي النِّكَاحَ وَمَا نَهَى عَنْهُ مِنْهَا
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
حدیث نمبر: 6915
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شرطیں، جو پورا ہو نے کا سب سے زیادہ حق رکھتی ہیں، وہ وہ ہیں، جن کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17511»
وضاحت: فوائد: … قاضی عیاض نے کہا: اس شرط سے مراد حق مہر ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے شرمگاہ کو حلال سمجھا جاتا ہے۔ نان نفقہ اور رہائش کی شرط لگانے کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن شریعت نے خاوند کو ان امور کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔
(مسند احمد: ۸۰۸۶)
(مسند احمد: ۸۰۸۶)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1418
حدیث نمبر: 6916
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْتَرِطُ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6916]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مقطعا البخاري: 2140، 2727، ومسلم: 1413، 1515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: غير مذكور»
وضاحت: فوائد: … یعنی اگر کوئی خاوند ایک سے زائد شادیاں کرنا چاہے تو بننے والی نئی بیوییہ شرط نہ لگائے کہ وہ پہلے سے موجود بیوی کو طلاق دے دے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مقطعا البخاري: 2140
حدیث نمبر: 6917
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ بِطَلَاقِ أُخْرَى
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حلال نہیں ہے کہ ایک عورت کو طلاق دے کر دوسری عورت سے شادی کی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6917]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6647»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6918
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ مَرْدُودٌ وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر شرط جو کتاب اللہ میں نہیں ہے، وہ مردود ہے، اگرچہ لوگ ایسی سو شرطیں لگا لیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2561، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26019»
وضاحت: فوائد: … کتاب اللہ میں نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شرط کتاب و سنت کے مخالف ہو، یعنی اس شرط کی وجہ سے وہ چیز ممنوع نہ قرار پاتی ہو، جو شریعت میں جائز ہو یا وہ چیز جائز نہ قرار پاتی ہو، جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ مثال کے طور نکاح کے وقت عورت کے اولیاء کی طرف سے یہ شرط لگانا کہ اگر خاوند نے اس خاتون کو طلاق دی تو ساتھ اتنی رقم ادا کرنا پڑے گییا ماہانہ اتنا خرچ دینا پڑے گا، یہ شرط حرام ہے، کیونکہ شریعت خاوند کو طلاق دینے کا جو حق دیا ہے، اس شرط کے ذریعے اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2561