🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ
کسی شخص کا اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6954
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ خَالِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَ وَفِي آخِرِهِ: قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَا حَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَبْدِ الْغَفَّارِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ لِعِلَّتِهِ.
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ماموں کو ملا، … پھر اوپر والی حدیث بیان کی، … البتہ اس کے آخر میں ہے، ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے ابو مریم عبد الغفار سے صرف یہ حدیث بیان کی ہے، کیونکہ اس میں علت موجود ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6954]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، وانظر الاروائ: 8/ 33، أخرجه ابوداود: 4456، والنسائي: 6/ 109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18811»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6955
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ قَالَ: ثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَأَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ ضَلَّتْ لِي فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أَجُولُ فِي أَبْيَاتٍ فَإِذَا أَنَا بِرَكْبٍ وَفَوَارِسَ إِذْ جَاءُوا فَطَافُوا بِفِنَائِي فَاسْتَخْرَجُوا رَجُلًا فَمَا سَأَلُوهُ وَلَا كَلَّمُوهُ حَتَّى ضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَلَمَّا ذَهَبُوا سَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا: عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ.
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدمبارک میں میرے اونٹ گم ہو گئے، پس میں مختلف گھروں میں چکر لگا رہا تھا، اچانک میں نے ایک قافلہ اور گھوڑ سوار دیکھے، وہ آگے بڑھے اور میرے صحن میں گھومے، انھوں نے ایک آدمی کو نکالنے کا مطالبہ کیا، پھر نہ انھوں نے اس سے کوئی سوال کیا اور نہ اس سے کوئی بات کی،یہاں تک کہ اس کی گردن اڑا دی، جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6955]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، وانظر المصدر المذكور في الحديث رقم: 6954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18809»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6956
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: أَتَوْا قُبَّةً فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا فَقَتَلُوهُ، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَجُلٌ دَخَلَ بِأُمِّ امْرَأَتِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ
۔ سیدنا مطرف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ لوگ ایک خیمہ میں آئے، انھوں نے وہاں سے ایک آدمی باہر نکالا اور اسے قتل کر دیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ آدمی ہے جس نے اپنی بیوی کی ماں سے شادی کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو اس کی طرف بھیجا ہے، اس لیے انھوں نے اس کو قتل کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6956]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18810»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6957
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِنَا نَاسٌ مُنْطَلِقُونَ، فَقُلْنَا: أَيْنَ تَذْهَبُونَ؟ فَقَالُوا: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَأْتِي امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ نَقْتُلَهُ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ لوگ ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے کہا: تم کہاں جارہے ہو: انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے آدمی کی جانب بھیجا ہے، جو اپنے باپ کی بیوی سے زنا کرتا ہے، تاکہ ہم اس کو قتل کر دیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6957]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18779»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6958
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَجْمَلِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ؟ قَالَ: ( (وَمَنْ هِيَ؟) ) قُلْتُ: ابْنَةُ حَمْزَةَ، قَالَ: ( (أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعِ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو ایسی لڑکی کا نہ بتاؤں، جو قریش میں سے سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: سیدنا حمزہ کی بیٹی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے نہیں ہو کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام کیے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6958]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1096»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے:
{وَلَاتَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آَبَائُکُمْ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَ اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَمَقْتًا وَسَآئَ سَبِیْلًا} … ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو، جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے، مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راہ ہے۔“ (سورۂ نسائ:۲۲)
دورِ جاہلیت میں سوتیلی ماں کو بھی میت کا ورثہ سمجھ لیا جاتا تھا، اس کا نکاح کرنے یا نہ کرنے کا انحصار ورثاء کی مرضی پر تھا، بلکہ مرنے والے کا بیٹا اپنے باپ کی اس بیوی سے نکاح بھی سکتا تھا، شریعت ِاسلامیہ نے اس تحریم و تقدس کو بحال کرتے ہوئے سوتیلی ماں کو بھی محرم قرار دیا اور اس سے نکاح کرنے والے کی سزا یہ رکھی کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور اس کا مال غصب کر لیا جائے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں