صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2007 ترقیم شاملہ: -- 5236
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ سَهْلٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا، فَلَمَّا كَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: " قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي "، فَقَالُوا لَهَا: أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا؟، فَقَالَتْ: لَا، فَقَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَكِ لِيَخْطُبَكِ، قَالَتْ: أَنَا كُنْتُ أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ سَهْلٌ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " اسْقِنَا لِسَهْلٍ "، قَالَ: فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ، فَشَرِبْنَا فِيهِ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَوَهَبَهُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحاَقَ، قَالَ: اسْقِنَا يَا سَهْلُ.
محمد بن سہل تیمی اور ابوبکر بن اسحاق نے کہا: ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوغسان محمد بن مطرف نے بتایا کہ مجھے ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا۔ (اس کے والد نعمان بن ابی الجون کندی نے پیش کش کی) آپ نے ابواسید رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ اس (عورت کو لانے کے لیے اس) کی طرف سواری وغیرہ بھیجیں۔ تو انہوں (حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ) نے بھیج دی، وہ عورت آئی بنو ساعدہ کے قلعہ نما مکانات میں ٹھہری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے روانہ ہو کر اس کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکائے ہوئے تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس سے بات کی تو وہ کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں خود سے پناہ دے دی۔“ لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم جانتی ہو یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تمہیں نکاح کا پیغام دینے تمہارے پاس آئے تھے۔ اس نے کہا: میں اس سے کم تر نصیب والی تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ خود اور آپ کے ساتھ بنو ساعدہ کے چھت والے چبوترے پر تشریف فرما ہوئے، پھر سہل نے کہا: پانی پلاؤ، کہا: میں نے ان کے لیے وہی پیالہ (نما برتن) نکالا اور اس میں آپ کو پلایا۔ ابوحازم نے کہا: سہل رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکالا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا، پھر عمر بن عبدالعزیز نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے وہ پیالہ بطور ہبہ مانگ لیا۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے وہ پیالہ ان کو ہبہ کر دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہل! ہمیں (کچھ) پلاؤ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5236]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا (کہ آپ اس سے شادی کر لیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس کو پیغام بھیجیں، چنانچہ انہوں نے اسے پیغام بھیجا، وہ آ گئی اور بنوساعدہ کی گڑھی میں ٹھہری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اس کے پاس پہنچ گئے، تو وہ ایک ایسی عورت تھی جو سر جھکائے ہوئے بیٹھی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گفتگو کا آغاز فرمایا تو وہ کہنے لگی: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اپنے سے پناہ دی۔“ لوگوں نے اس سے پوچھا: تجھے معلوم ہے یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، لوگوں نے بتایا: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تجھے منگنی کا پیغام دینا چاہتے ہیں، اس نے کہا: میں یہ مقام حاصل کرنے میں انتہائی بدبخت رہی۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بنوساعدہ کے سقیفہ (چھت) میں بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہل رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”ہمیں پانی پلاؤ۔“ حضرت سہل رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا، ابوحازم بیان کرتے ہیں: حضرت سہل رضی اللہ عنہما وہ پیالہ ہمارے پاس لائے اور ہم نے اس میں پانی پیا، پھر اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے کہا: یہ پیالہ مجھے ہبہ کر دو، تو انہوں نے اسے انہیں ہبہ کر دیا۔ ابوبکر بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں پلائیے، اے سہل!“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2007
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2008 ترقیم شاملہ: -- 5237
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے۔ شہد، نبیذ، پانی اور دودھ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5237]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس پیالہ سے ہر قسم کے مشروبات، شہد، نبیذ، پانی اور دودھ پلائے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2008
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة